ابوظبی: متحدہ عرب امارات کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے لبنان کی عسکری و سیاسی تنظیم حزب اللہ سے مبینہ تعلقات کے شبہے میں بڑی کارروائی کی ہے۔
اماراتی حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین فہرست میں 16 افراد کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ ان کے ساتھ ساتھ 5 اہم اداروں کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہونے کے جرم میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد خطے میں غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کی مالی معاونت کو روکنا اور بین الاقوامی امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق اماراتی کابینہ نے ان مشتبہ افراد اور اداروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا حکم صادر کیا ہے۔
اس ضمن میں متعلقہ مالیاتی اداروں اور بینکوں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ان تمام نامزد افراد اور اداروں کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے فوری طور پر منجمد کر دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد پر حزب اللہ کے لیے مالی وسائل اکٹھا کرنے اور مشتبہ مالیاتی لین دین میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، جس کے باعث یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف عالمی طاقتیں اپنی اپنی تزویراتی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ایسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔
دوسری جانب ایران میں بھی صہیونی ریاست سے مبینہ تعلق رکھنے والے کئی خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی اطلاعات ملی ہیں، جہاں متعدد افراد کو حراست میں لے کر بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امارات کی اس تازہ کارروائی کو مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
