ریاض: سعودی کابینہ نے خلیجی ممالک کی سرزمین اور علاقائی پانیوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے کے امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
سعودی کابینہ کا یہ اہم اجلاس ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں خلیجی ریاستوں کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
کابینہ نے متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی سرزمین اور سمندری حدود میں ہونے والے حالیہ واقعات کو علاقائی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا اور اسے مسترد کر دیا۔
سعودی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت خلیجی ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قسم کے اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے جسے ہر صورت میں یقینی بنانا ضروری ہے۔
#PICTURES: Crown Prince Mohammed bin Salman chairs cabinet session in Jeddah pic.twitter.com/XySJZ2VEi4
— Saudi Gazette (@Saudi_Gazette) May 12, 2026
ولی عہد محمد بن سلمان نے اجلاس کے شرکا کو موریطانیہ کے صدر اور جاپان کے وزیر اعظم کی جانب سے موصول ہونے والے اہم سفارتی پیغامات سے بھی آگاہ کیا۔ ان پیغامات میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے عالمی سطح پر کی جانے والی سفارتی کوششوں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت عالمی امن کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔
سعودی عرب نے اپنے اس موقف کو بھی دہرایا کہ خلیجی ممالک کا تحفظ مملکت کی اپنی سلامتی کے مترادف ہے۔ کسی بھی قسم کی جارحیت کو خطے کے امن میں خلل ڈالنے کی کوشش تصور کیا جائے گا جس کے خلاف سعودی عرب کا ردعمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
آخر میں کابینہ نے ان تمام ممالک کے ساتھ قریبی رابطے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جو خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے خواہشمند ہیں۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کی جانب سے خطے میں استحکام لانے کے لیے کیے گئے حالیہ سفارتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
