برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایک وسیع کثیرالملکی دفاعی مشن میں اپنی عسکری صلاحیتیں بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت جدید خودکار نظام، جنگی طیارے اور بحری جہاز اس مشن کا حصہ بنائے جائیں گے۔
برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے یہ اعلان 40 سے زائد ممالک کے دفاعی وزرا کے ساتھ ہونے والے ایک ورچوئل اجلاس کے دوران کیا۔ یہ بین الاقوامی مشن صرف مخصوص حالات میں فعال کیا جائے گا اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
جان ہیلی کے مطابق برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا دفاعی ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے جو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا، خودمختار اور مؤثر ہوگا۔ ان کے بقول اس منصوبے کا مقصد تجارتی بحری راستوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
برطانوی حکومت نے اس منصوبے کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے، جو جدید مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد سمندری خطرات کا بروقت سراغ لگانا اور انہیں ناکارہ بنانا ہے۔
منصوبے کے تحت برطانیہ کی جانب سے جدید خودکار مائن ہنٹنگ سسٹمز تعینات کیے جائیں گے جو سمندر میں موجود بارودی سرنگوں کی شناخت اور انہیں غیر فعال بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ رائل نیوی کا جدید “بی ہائیو” نظام بھی اس مشن کا حصہ ہوگا، جو تیز رفتار خودکار ڈرون کشتیوں کے ذریعے سمندری خطرات کی نگرانی اور ان کے مقابلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دفاعی پیکج میں ٹائفون جنگی طیاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے جو آبنائے ہرمز کے فضائی علاقے میں گشت کریں گے اور ممکنہ خطرات پر نظر رکھیں گے۔ ساتھ ہی برطانوی فوج کے مائن کلیئرنس کے خصوصی ماہرین بھی اس مشن میں شامل ہوں گے تاکہ زمینی اور بحری سطح پر خطرات سے نمٹا جا سکے۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق رائل نیوی کا جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کیا جا چکا ہے۔ اس جہاز کے عملے کو اضافی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ جنگی جہاز جدید “سی وائپر” فضائی دفاعی نظام اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو اسے خطے میں مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
