تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کی عسکری تعریف اور حدود کے دائرے کو تبدیل کرتے ہوئے اس اہم آبی گزرگاہ کو ایک وسیع آپریشنل زون قرار دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس نئے اقدام کے تحت ایران نے اپنے سمندری حدود کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے نیا نقشہ جاری کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی ڈائریکٹر محمد اکبر زادہ نے کہا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو صرف چند جزیروں تک محدود راستہ نہیں سمجھتا۔ اسے اب ایک بڑی اسٹریٹجک اور فوجی پٹی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا دائرہ وسیع ہے۔
محمد اکبر زادہ نے وضاحت کی کہ ماضی میں اس علاقے کا شمار محض 20 سے 30 میل تک ہوتا تھا لیکن اب اسے بڑھا کر 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیلا دیا گیا ہے۔ یہ نیا دائرہ کار جاسک شہر سے سیری آئی لینڈ تک محیط ہے۔
Iran Expands Strait Of Hormuz#Iran has expanded its definition of the #StraitofHormuz into a wider operational zone, according to an #IRGC Navy official.
The area now reportedly stretches from Jask to Siri Island, extending its strategic scope. The waterway remains a critical… pic.twitter.com/oLMRspQq3w
— Daily Euro Times (@dailyeurotimes) May 12, 2026
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد اس علاقے کی وسعت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز کی یہ نئی حدود ایک ہلال نما شکل اختیار کر چکی ہیں جو خطے میں ایرانی عسکری اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 4 مئی کو بھی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بحری نقشہ جاری کیا تھا جس میں خلیج عمان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں تک اپنے دائرہ اختیار کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا بھر میں خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 25 فیصد سپلائی گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور سپلائی چین کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ قدم خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس اقدام کے بعد سمندری حدود کے قوانین اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے حوالے سے گہری تشویش کا شکار ہے کیونکہ اس کا اثر براہِ راست عالمی معیشت پر پڑے گا۔
