بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی شدید گولہ باری اور فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 13 افراد شہید ہو گئے۔
یہ تازہ ترین کارروائیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں جنگ بندی کے معاہدے کی مدت میں توسیع کے باوجود حالات کشیدہ ہیں۔
لبنانی وزارت صحت نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والوں میں ایک فوجی، ایک کمسن بچہ اور دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔ حملوں کی شدت کے باعث مقامی اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق نبطیہ شہر پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں 5 افراد لقمہ اجل بنے جن میں سول ڈیفنس کے 2 ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ اہلکار زخمیوں کو نکالنے کے لیے وہاں موجود تھے، تاہم اسرائیلی نشانے نے انہیں موت کے منہ میں پہنچا دیا۔
اسی طرح کے ایک اور واقعے میں جبشیت کے قریبی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں ہونے والی بمباری سے 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں لبنان کا ایک فوجی اور ایک شامی شہری شامل ہیں۔ اس حملے نے علاقے میں موجود شہریوں کے درمیان شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
بنت جبیل کے علاقے میں تیسرا مہلک حملہ پیش آیا جس میں 4 عام شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ شہید ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک معصوم بچہ بھی شامل ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عالمی سطح پر جنگ بندی کے معاہدوں کو برقرار رکھنے کی اپیلیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ سفارتی سطح پر جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ فریقین کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں جاری ان روزانہ کے حملوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
خطے میں جاری اس تنازع نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور انفرا اسٹرکچر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں تاحال بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔
