اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی معاشی بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے جاری کردہ جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 3.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
فنڈ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی نے افراط زر کو قابو میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا جس سے ملکی معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ متوازن رہا جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں توقع سے زیادہ بہتری ریکارڈ کی گئی۔ دسمبر کے آخر تک ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں ان کے 17.5 ارب ڈالر تک جانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے تاہم مشرق وسطیٰ کی جنگ کو پاکستان کے لیے سنگین بیرونی خطرہ قرار دیا ہے۔ اس تنازع نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھا اور مہنگائی کا دباؤ براہ راست عوام پر پڑا۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا کل قرض جی ڈی پی کا 73.8 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2026 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر رہنے کی توقع ہے جو کہ حکومتی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کی بہتری ظاہر کرتا ہے۔
فنڈ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ طویل المدتی ترقی کے لیے کاروباری اور پیداواری شعبوں میں مسابقت کو بڑھایا جائے۔ فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اصلاحات کے ساتھ بینکوں کے سرمایہ کو مستحکم رکھنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کے تسلسل کو برقرار رکھنا معاشی بقا کے لیے ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آئی ایم ایف نے 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پروگرام کا ذکر کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے اور پانی کے موثر استعمال کے لیے جدید نظام فراہم کرنا ہے تاکہ مستقبل کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
