English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملکی توانائی اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات کی رفتار سست، آئی ایم ایف کو تحفظات

القمر

اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت بیشتر اصلاحاتی شرائط پر مکمل یا جزوی عملدرآمد کو یقینی بنایا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے دکھائی گئی اس پیش رفت کو آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات میں انتہائی مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی حکومت نے بجلی اور گیس کی قیمتوں کو لاگت کے قریب لانے کی پالیسی پر کام مکمل کر لیا ہے۔ اسی طرح روپے کی قدر پر مصنوعی کنٹرول ختم کر کے اسے مارکیٹ کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو کہ فنڈ کا ایک اہم اور بنیادی مطالبہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے لیے قانون سازی مکمل کی جا چکی ہے۔ اسی طرح محصولات میں اضافے کے لیے نئے ٹیکس اقدامات بھی کرلیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نان فائلرز کے خلاف کریک ڈاؤن اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوششیں بھی تیزی کے ساتھ جاری ہیں۔

حکومت نے زرعی آمدنی پر ٹیکس کے قوانین میں ترامیم تو متعارف کروا دی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام ہو رہا ہے، مگر ٹیکس دہندگان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہونا ابھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

واضح رہے کہ توانائی کا شعبہ اب بھی آئی ایم ایف کی بڑی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ حکومت گردشی قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں تاحال مکمل کامیاب نہیں ہو سکی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور تنظیم نو کا عمل غیر معمولی سست روی کا شکار ہے۔

خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے اقدامات محدود نتائج کے حامل رہے ہیں۔ اگرچہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آخری مراحل میں ہے، لیکن توانائی کے شعبے میں ٹارگٹڈ سبسڈی کا مکمل نظام ابھی تک فعال نہیں ہو پایا ہے۔

حکومتی حلقوں نے کہا ہے کہ اصلاحات کا عمل مسلسل جاری ہے اور آئندہ جائزہ مذاکرات تک مزید بہتری لائی جائے گی۔ معاشی استحکام کے طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تمام شرائط پر سختی سے عمل کرنا اب ملکی معیشت کی ناگزیر ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے