English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 600 سے زائد افراد جاں بحق

القمر

لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی محاذ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں جنگ بندی معاہدے کے باوجود حملوں، جوابی کارروائیوں، سفارتی سرگرمیوں اور عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خطے کی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑے تصادم کے خدشات کو تقویت دے دی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق لبنانی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 2951 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 8988 سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، کیونکہ صرف جنگ بندی کے مرحلے کے بعد ہی کم از کم 657 افراد ہلاک اور 1444 زخمی ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں، بلیدا کے قریب ایک اسرائیلی ٹینک پر حملہ کیا گیا جبکہ خیم کے علاقے میں موجود تین فوجی بلڈوزرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ راشاف کے مقام پر تعینات اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر راکٹوں اور توپ خانے سے حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو نقصان پہنچا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے وفود کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جہاں دونوں فریقین سرحدی سیکیورٹی، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کے امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، مذاکرات کا دوسرا روز بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کیلئے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے بھی ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے ایک فوجی مشق کے دوران کہا کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں نے اسرائیل کو یہ واضح پیغام دیا کہ سرحدی علاقوں میں ہر وقت مکمل جنگی تیاری برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بیک وقت کئی محاذوں پر پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے جبکہ مستقبل میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ فوجی مشقوں کے دوران ریزرو دستوں سمیت مختلف یونٹس کو رات کے اوقات میں فوری طور پر طلب کیا گیا تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا عملی جائزہ لیا جا سکے۔

سیاسی اور عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم زمینی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور دونوں جانب سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے باعث خطے میں پائیدار امن کی امیدیں بدستور غیر یقینی دکھائی دے رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے