کن شاسا: جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز نے عالمی ادارہ صحت اور مقامی حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں اب تک اس مہلک وبا کے نتیجے میں 65 اموات ہو چکی ہیں اور 246 افراد متاثر ہیں۔
صوبہ ایتوری میں ایبولا کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے پورے خطے کو ہائی الرٹ پر ڈال دیا ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین اب اس بات کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ وائرس اپنی نوعیت کا سب سے خطرناک ویرینٹ ہے۔
افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ مونگوالو اور روامپارا کے ہیلتھ زونز میں وائرس کا مرکز موجود ہے، جہاں طبی سہولیات کی قلت کے باعث متاثرہ مریضوں کو بروقت امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ہمسایہ ملک یوگنڈا نے بھی اپنی حدود میں ایبولا سے ایک موت کی تصدیق کی ہے، جس سے یہ خدشات تقویت پا رہے ہیں کہ یہ وبا سرحد پار کرتے ہوئے جنوبی سوڈان سمیت دیگر قریبی ممالک تک پھیل سکتی ہے۔
حکام نے ان علاقوں میں ہنگامی اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری قرنطینہ میں منتقل کیا جائے۔ اس سلسلے میں سرحدوں پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ نقل و حرکت کے ذریعے بیماری کو پھیلنے سے بچایا جا سکے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا ایک نہایت متعدی وائرس ہے جو فوری طبی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے، لہذا متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں بین الاقوامی تنظیمیں بھی کانگو کی حکومت کے ساتھ مل کر ویکسینیشن اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔
اس عالمی وبا کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کی بروقت جانچ ممکن ہو سکے۔ حکام نے مزید کہا کہ اگر بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ وائرس پورے وسطی افریقہ کے لیے ایک بڑا انسانی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔
