English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آبنائے ہرمز کی بندش پر ٹرمپ کا صبر جواب دے گیا، ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی

القمر

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش پر ان کا صبر اب ختم ہو رہا ہے اور اگر صورتحال نہ بدلی تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہران نے مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کیا تو امریکی انتظامیہ سخت ترین اقدامات اٹھائے گی۔

ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر متفق ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر چین سے کوئی احسان نہیں مانگ رہے ہیں۔

امریکی صدر نے ایرانی خام تیل درآمد کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کے امکانات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تجارتی پابندیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں کیونکہ چین بدستور ایران سے تیل خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایران پر اپنے حملے عارضی طور پر روک دیے تھے مگر خطے میں آپریشن فریڈم کے نام سے بحری ناکابندی بدستور جاری ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکی ناکابندی ختم نہیں ہوگی، آبنائے ہرمز محدود رہے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختیار کی گئی پالیسی نے واشنگٹن کو شدید برہم کر دیا ہے، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان عسکری تصادم کا خطرہ دوبارہ سر اٹھانے لگا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے صدر ٹرمپ اب سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن بھی میز پر رکھ چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے