English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی فوج میں نفسیاتی مسائل کے سبب سروس چھوڑنے والوں کی تعداد بڑھ گئی

القمر

اسرائیلی فوج میں بڑھتے ہوئے دباؤ، طویل جنگی تعیناتیوں اور افرادی قلت کے باعث اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر سروس چھوڑنے کے رجحان نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے جبکہ بڑی تعداد میں فوجی نفسیاتی دباؤ اور ذہنی مسائل کے سبب اپنی خدمات جاری رکھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے مستقل اور ریزرو دونوں فورسز پر غیر معمولی بوجھ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں نظامِ دفاعی میں طویل المدتی مشکلات جنم لے رہی ہیں، اگر اس صورتحال کا فوری حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں نہ صرف جنگی آپریشنز بلکہ معمول کی سکیورٹی ضروریات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے قبل ریزرو اہلکاروں کو تین سال میں اوسطاً 25 دن کی ڈیوٹی انجام دینا پڑتی تھی، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد حالات تبدیل ہو گئے اور کئی اہلکار اب تک 170 دن سے زائد ریزرو ڈیوٹی سرانجام دے چکے ہیں۔ مسلسل تعیناتیوں اور بڑھتے ہوئے مشنز نے فوجی ڈھانچے پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 2026 کے لیے ریزرو ڈیوٹی کو 80 سے 100 دن کے درمیان محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن بعض یونٹس پہلے ہی اس حد سے تجاوز کر چکے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ ایران اور لبنان سے متعلق اضافی عسکری کارروائیاں اور مشنز بتائی جا رہی ہیں۔

فوجی حکام کے مطابق طویل جنگی ماحول نے ہزاروں اہلکاروں میں شدید تھکن اور ذہنی دباؤ پیدا کر دیا ہے، جبکہ کئی اہلکار زخمی ہونے کے بعد سروس سے علیحدہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ مستقل فوجیوں کو بغیر وقفے کے مسلسل ڈیوٹی پر رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث انہیں مناسب آرام اور تربیت کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فوجی نظام اس وقت اس حد تک دباؤ کا شکار ہے کہ اہلکاروں کو مختصر وقفہ دینا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس سے مجموعی تیاری اور جنگی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 80 ہزار شہری فوجی بھرتی سے گریز کر رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد الٹرا آرتھوڈوکس یہودی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ لازمی سروس اور ریزرو ڈیوٹی سے متعلق قانون سازی سیاسی تنازعات کی نذر ہو کر تعطل کا شکار ہے۔

فوجی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس طبقے کو دی جانے والی ممکنہ رعایتوں، لازمی فوجی سروس کی مدت میں توسیع اور ریزرو ڈیوٹی سے متعلق قوانین کو الگ الگ منظور کیا جائے کیونکہ ان امور کو یکجا کرنے سے فیصلہ سازی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لازمی فوجی سروس کو موجودہ 32 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

فوجی ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقریباً 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، جن میں سے 6 سے 7 ہزار جنگی دستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سروس کی مدت میں کمی یا مزید تاخیر ہوئی تو یہ کمی مزید بڑھ کر ہزاروں اہلکاروں تک پہنچ سکتی ہے، جو طویل مدت میں فوجی تیاریوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے