بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ایسے کتوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے جو انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں آوارہ کتوں کی منتقلی سے متعلق دائر درخواستوں میں ترمیم کی استدعا پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے واضح کیا کہ عوامی مقامات پر بے قابو آوارہ کتوں کی موجودگی شہریوں خصوصاً بچوں کیلئے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے مختلف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے جانور جن سے انسانی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جانوروں کی افزائش روکنے سے متعلق قوانین اور دیگر قانونی ضابطوں کے تحت خطرناک ثابت ہونے والے آوارہ کتوں کو ہلاک کرنے کی گنجائش موجود ہے، لہٰذا متعلقہ حکام اس حوالے سے کارروائی کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ان واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی جن میں آوارہ کتوں کے حملوں کے باعث متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
عدالت نے کہا کہ ایسے افسوسناک واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے مختلف ریاستی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ ماضی میں جاری کی گئی ہدایات پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس کے باعث کئی علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔
عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور شہری علاقوں میں بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کے مسئلے پر فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
