اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی درخواست دائر کی ہے، جس کے بعد خطے میں سیاسی اور سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسموٹریچ نے اس ممکنہ اقدام کو اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں کے انہدام کا حکم دے دیا، اس حوالے سے آئی سی سی کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق یہ اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع میں مرکزی کردار ادا کرنے پر اسموٹریچ کے خلاف وارنٹ گرفتاری کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے مباحث اور جنگی جرائم سے متعلق شقوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
یروشلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیزالیل اسموٹریچ نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم، وزیرِ دفاع اور وزیرِ خزانہ کے خلاف وارنٹ کی درخواست دراصل اسرائیل کے خلاف جارحیت کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کو متعصب ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے تاریخی اور قانونی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی قیادت کے خلاف عالمی عدالت کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے جواب میں اسرائیل معاشی اور انتظامی اقدامات سمیت ہر ممکن ردعمل دے گا۔
رپورٹس کے مطابق مغربی کنارے میں بعض بستیاں اور آبادیاتی منصوبے بین الاقوامی قانون کے تحت متنازع سمجھے جاتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں انہیں جبری بے دخلی اور زمینی قبضے سے جوڑتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے 2018 میں ایک فلسطینی بستی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کی اجازت دی تھی، تاہم بین الاقوامی ردعمل کے باعث اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
مزید یہ کہ نومبر 2024 میں بھی آئی سی سی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، جس کے بعد اسرائیل اور عالمی اداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
