English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روسی صدر پیوٹن سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے

القمر

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اہم سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے جہاں بیجنگ میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ائیرپورٹ پر روسی صدر کا خیرمقدم کیا جبکہ چینی افواج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق نوجوانوں نے روسی اور چینی پرچم لہرا کر صدر پیوٹن کے استقبال میں شرکت کی جبکہ ان کے دورے کو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی ایک اور اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے دورے کے صرف 4 دن بعد ہونے والا یہ دورہ پیوٹن کا مجموعی طور پر 25واں دورہ چین ہے، جسے ماسکو اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق روسی صدر اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں رہیں گے، جو روایتی طور پر غیر ملکی سربراہان کی میزبانی کے لیے مخصوص مقام سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دورے کا باضابطہ آغاز تیانانمن اسکوائر میں خصوصی استقبالیہ تقریب سے ہوگا جس کے بعد وہ چینی صدر شی جن پنگ سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برعکس پیوٹن کو کہیں زیادہ اعلیٰ سطحی سفارتی پروٹوکول دیا گیا۔ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے کیا تھا جبکہ وہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم رہے تھے، تاہم پیوٹن کیلئے روایتی ریاستی مہمان خانے کا انتخاب کیا گیا ہے۔

چینی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے دورے کے دوران ژونگ نان ہائی کمپاؤنڈ میں چائے اور ورکنگ لنچ کا اہتمام کیا گیا تھا، جسے چین میں غیر معمولی سفارتی اشارہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں شاذ و نادر ہی غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی کی جاتی ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ٹرمپ کو دی جانے والی خصوصی رسائی اعتماد سازی کی کوشش تھی، جبکہ روس اور چین کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط تعلقات کے سبب پیوٹن کے لیے ایسے علامتی اقدامات کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

چینی میڈیا نے اس امر پر بھی زور دیا کہ روسی صدر اس سے قبل بھی ژونگ نان ہائی کمپاؤنڈ کا دورہ کر چکے ہیں، جس کا حوالہ حالیہ دنوں میں شی جن پنگ نے ٹرمپ کو وہاں لے جاتے ہوئے دیا تھا۔

یہ دورہ چین اور روس کے درمیان “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون” کے معاہدے کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر بھی ہو رہا ہے، جسے دونوں ممالک کے طویل المدتی سیاسی اور تزویراتی تعلقات کی بنیادی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے