واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ ٹیلی فون کال منگل کے روز ہوئی جس میں ایران کے ساتھ جنگ بندی پر بات ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا جنگ بندی کی تجویز پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف عسکری دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کی عسکری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ ثالثی کے لیے ایک ابتدائی مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس مسودے پر امریکا اور ایران دستخط کر سکتے ہیں جس کا مقصد باضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ اور 30 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرنا ہے۔
مجوزہ مذاکرات کے ایجنڈے میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی جاری کشیدگی کو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم معاملات بھی اس بات چیت کا حصہ ہوں گے تاکہ سمندری راستوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے ڈیل کی بات چھیڑنے پر نیتن یاہو غصے سے بھڑک اٹھے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر کسی بھی طرح کے سمجھوتے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی پالیسی کے برعکس قرار دیا۔
اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایران کو اب بھی خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی نرمی کے حق میں نہیں ہیں۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے ایران کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ اب سفارتی ذرائع سے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ تہران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان حکمت عملی کے حوالے سے گہرے اور سنگین اختلافات تاحال موجود ہیں۔
