مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی پارلیمنٹ نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے حکومتی حمایت یافتہ بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق کنیسٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران 110 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیے جبکہ کسی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
منظور شدہ بل کے تحت اب اسرائیل میں انتخابات کا انعقاد 5 ماہ کے اندر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ حتمی تاریخ کا تعین ابھی باقی ہے، تاہم آئینی تقاضوں کے مطابق ووٹنگ 27 اکتوبر تک ہر صورت مکمل کرنا ہو گی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابات اکتوبر کے وسط میں متوقع ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اس اہم ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ سیکیورٹی امور پر مشاورت میں مصروف تھے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس پیش رفت کو موجودہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کی بدترین انتظامیہ کے خاتمے کی شروعات ہے۔
موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی وجہ الٹرا آرتھوڈوکس طلبہ کو فوجی بھرتی سے استثنیٰ دینے سے متعلق متنازع قانون ہے۔
اتحادی مذہبی جماعتوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قانون منظور نہ ہوا تو وہ حکومت کی حمایت واپس لے لیں گی، جس کے بعد حکومتی اتحاد میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
دریں اثنا حکومتی اتحاد نے پارلیمنٹ تحلیل ہونے سے قبل کئی متنازع قوانین کی منظوری کی رفتار تیز کر دی ہے۔
ان اقدامات میں میڈیا سے متعلق تبدیلیاں اور اٹارنی جنرل کے اختیارات کو محدود کرنا شامل ہے۔ اپوزیشن اسے ریاستی اداروں کو کمزور کرنے اور اپنے حق میں فیصلے کرانے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔
سروے رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ووٹرز کا ایک بڑا حصہ اب دوسری جماعتوں کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابات کی صورت میں موجودہ اتحاد مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے اور نیتن یاہو کے لیے اقتدار کی کرسی بچانا ناممکن ہوگا۔
