English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا راول کاسترو کو بھی نکولس مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکا لایا جائے گا؟

القمر

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کرنے کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا انہیں بھی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی طرح حراست میں لے کر نیویارک لایا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام نے اس معاملے پر براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ہر کیس کے تقاضے الگ ہوتے ہیں اور قانونی کارروائی کے طریقے بھی مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے دونوں واقعات کا موازنہ کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں امریکی فورسز نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کے صدارتی محل سے حراست میں لے کر امریکا منتقل کیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد راول کاسترو کیخلاف جاری ہونے والی فردِ جرم نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق راول کاسترو جب 1996 میں کیوبا کے وزیر دفاع تھے تو ان کی منظوری سے 2 سویلین طیارے مار گرائے گئے تھے۔ اس واقعے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں امریکی شہری بھی شامل تھے، جس کی وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش اور طیارے تباہ کرنے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فردِ جرم اور خفیہ ادارے کے سربراہ کے کیوبا کے دورے کا آپس میں کوئی گہرا تعلق موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب کیوبا نے امریکی اقدامات کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

کیوبا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اشتعال انگیزی پر مبنی ہے، جبکہ سیاسی تجزیہ کار اسے موجودہ امریکی انتظامیہ کی سخت گیر کیوبا پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت خطے میں امریکا اور کیوبا کے درمیان کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ عالمی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے راول کاسترو کے خلاف آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے اور اس کے کیا اثرات ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے