کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں آئی جی بلوچستان پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔
آئی جی بلوچستان پولیس نے اجلاس کو کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کی اور واقعے کی نوعیت، ممکنہ محرکات اور جاری تحقیقات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کو بزدلانہ اور انسانیت سوز قرار دیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی ہے،معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر درندگی اور سفاکیت کے مرتکب ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کی جا رہی ہے،حکومت شہداء کے خون کی مقروض ہے اور ذمہ دار عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں گے اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
