لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کوئٹہ کے چمن پھاٹک پر ٹرین پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملکی مقتدر حلقوں، حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے چند انتہائی تلخ، سنجیدہ اور چبھتے ہوئے سوالات رکھ دیے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بزدلانہ حملے نے ہر پاکستانی کے دل کو چھید ڈالا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو آزادی دلانے کے نام پر انہیں افلاس اور طویل غلامی کی زنجیروں میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
یہ دہشتگرد اور ان کے سہولت کار پاکستان کے دشمنوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا عفریت ہیں، جنہیں تلف کرنے کے لیے ایک مربوط، ہمہ جہت اور زیادہ مو ¿ثر حکمت عملی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے بلوچستان کے حوالے سے دہائیوں پرانی ریاستی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چند اہم سوالات اٹھائے کہ کب تک محض عسکری طاقت کو منظم دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی سمجھا جائے گا؟
دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ ایک مضبوط سیاسی بیانیہ کب تشکیل دیا جائے گا؟ پاکستان کے آئین اور قومی پرچم کو ماننے والے ناراض بلوچ نمائندوں کو ریاست اپنے قریب کیوں نہیں لاتی؟۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت، اپوزیشن کی سیاسی قیادت اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ مل کر اس قومی مسئلے پر ایک میز پر بیٹھ کر حکمت عملی ترتیب کیوں نہیں دے سکتے؟ دہشت گردوں سے ضرور لڑیں، انہیں ماریں اور تباہ کریں، لیکن وہاں پرامن اختلافی سیاسی آوازوں کو سنا جائے اور مستند بلوچ قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔
کی حماقتیں اور طاقت کا بے جا استعمال، انتخابی عمل یعنی الیکشن پروسیس میں دھاندلی اور انجینئرنگ، بلوچ عوام کے وسائل کی مقامی سطح پر لوٹ مار جیسے عوامل نے بلوچستان کے عام آدمی کو وفاق سے دور کردیا اور اسی خلا کا فائدہ اٹھا کر دشمن اپنے ناپاک مقاصد آگے بڑھا رہا ہے۔
اس کا علاج تلاش کرنا پاکستان کے پالیسی میکرز کی بنیادی ذمہ داری ہے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، اب ہمارے پاس
