اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے ملک کی موجودہ زرعی اور معاشی صورتحال پر حکومتی دعوئوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری اور میکرو اکنامک اعشاریوں کے مثبت ہونے کے دعوئوں پر سوشل میڈیا پر اپنے مخصوص انداز میں کڑی تنقید کی ہے۔
اس حوالے سے اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ حکومتی اعداد و شمار میں تو سب اچھا دکھائی دے رہا ہے، لیکن ملک کا کسان اور عام آدمی سڑکوں پر رل رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ندیم افضل چن نے ملک کی بڑی فصلوں اور پھلوں کے کاشتکاروں کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کاٹن یعنی کپاس رل گئی، تربوز اور سبزیاں رل گئیں، کینو رل گیا، آم اب رل گئے، مگر حکومتی معیشت کے اعشاریے بہتر جا رہے ہیں۔
ندیم افضل چن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے کاشتکار بالخصوص جنوبی پنجاب اور سندھ کے کسان گندم کی خریداری کے بحران، کپاس کی کم قیمتوں اور کینو و آم کی برآمدات میں حائل رکاوٹوں کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں کینال واٹر کی کمی، مہنگی کھادوں، بجلی کے بھاری بلوں اور پیسٹیسائیڈز کی قیمتوں میں اضافے نے کسان کی کمر توڑ دی ہے، جس کی وجہ سے کاشتکار اپنی فصلیں سستے داموں بیچنے یا سڑکوں پر پھینکنے پر مجبور ہوئے۔
اس کے برعکس حکومتی ذرائع، وزارتِ خزانہ اور اقتصادی ماہرین مسلسل یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے، روپیہ مستحکم ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ قابو میں ہے اور معیشت کے اعشاریے درست سمت میں گامزن ہیں۔
