مقبوضہ بیت المقدس:غزہ میں مسلسل تیسرے سال جنگ، بھوک اور تباہی کے سائے میں عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے، جہاں شہری شدید مشکلات اور خوف کے ماحول میں عبادات ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
غزہ کے الشفا اسپتال کے ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں 26 مئی کی شب اسرائیلی حملے میں کم از کم 6 افراد شہید اور 20 زخمی ہوئے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب شہری عیدالاضحیٰ کی تیاریوں اور خریداری میں مصروف تھے، اور گنجان آباد تجارتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں متعدد دکانیں اور بازار موجود تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق رات تقریباً ساڑھے 9 بجے غزہ سٹی میں یکے بعد دیگرے 3 بڑے دھماکے ہوئے، جس کے بعد علاقے میں شدید تباہی پھیل گئی اور عید کی خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔
اسرائیلی حملوں کے باعث فلسطینیوں نے اس بار بھی عیدالاضحیٰ انتہائی کٹھن حالات میں منائی۔ متعدد علاقوں میں مساجد کی تباہی کے بعد لوگوں نے کھلے مقامات اور شہید شدہ عمارتوں کے قریب نمازِ عید ادا کی۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں بے گھر خاندان اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے، جبکہ جو گھر محفوظ رہ گئے ہیں وہاں بھی نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث عید کی تیاری ممکن نہیں ہو سکی۔ غزہ میں مویشیوں کی شدید قلت کے باعث قربانی کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ زیادہ تر مویشی فارم تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق جنگ سے پہلے جو جانور 400 سے 600 ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا، اب اس کی قیمت 6 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث عام شہری قربانی کی استطاعت سے محروم ہیں۔
