ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں اصل جنگ کا میدان اب معیشت بن چکا ہے اور ملک کو بیرونی دباؤ کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے اپنی اقتصادی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسعود پزشکیان نے تہران چیمبر آف کامرس کے اراکین سے ملاقات کے دوران نجی شعبے کے کردار پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ جتنا نجی شعبہ مضبوط، فعال اور متحرک ہوگا، اتنی ہی ایران کی معیشت مستحکم ہوگی اور بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی طاقت میں اضافہ ہوگا۔
صدر پزشکیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے بعد اب ان کی توجہ ایران کی معیشت کو نقصان پہنچانے پر مرکوز ہے، دشمن کوشش کر رہا ہے کہ ایران کی معاشی مزاحمت کو کمزور کیا جائے اور عوام کے روزگار اور روزمرہ زندگی کو متاثر کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی سطح پر معاشی خود کفالت، پیداوار میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنائے تاکہ بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
صدر مسعود پزشکیان کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون ہی ملک کو معاشی چیلنجز سے نکالنے اور استحکام کی راہ پر ڈالنے کا واحد مؤثر راستہ ہے، ایران اپنی اقتصادی پالیسیوں کو اس سمت میں لے جائے گا جہاں عوامی فلاح اور معاشی استحکام کو اولین ترجیح حاصل ہو۔
