English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا ایک کے بعد دوسری سازش رچا رہا ہے، انتشار کے بیج بونا چاہتا ہے: ایرانی سپریم لیڈر

القمر

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا فوجی اور معاشی محاذ پر ناکامیوں کے بعد اب ایرانی معاشرے میں انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی نئی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، تاہم ایرانی قوم کو قومی اتحاد اور داخلی یکجہتی کو ہر صورت برقرار رکھنا ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے نئے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر جاری اپنے خصوصی پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ بحرانوں اور کشیدہ حالات کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جو ملک کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اس قومی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی اصل کوشش یہ ہے کہ ایرانی عوام کے درمیان اختلافات کو ہوا دی جائے اور سماجی تقسیم پیدا کی جائے تاکہ میدانِ جنگ میں ہونے والی ناکامیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔  ایران کے خلاف پہلے جنگ مسلط کی گئی، پھر اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کا سہارا لیا گیا، جبکہ اس کے بعد بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا مہم بھی چلائی گئی، مگر ان تمام حربوں کے باوجود ایرانی قوم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب امریکا اور اس کے اتحادی نئے منصوبوں کے ذریعے ایرانی عوام میں مایوسی، بے چینی اور داخلی اختلافات پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایرانی قوم کو ان سازشوں کو سمجھتے ہوئے باہمی اتحاد کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔ ایرانی عوام نے ہر مشکل مرحلے میں صبر، حوصلے اور عزم کا ثبوت دیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کی طاقت ایمان، امید اور عملی جدوجہد میں پوشیدہ ہے، اور عوام نے اپنے طرزِ عمل سے دوست اور دشمن دونوں پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کی تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے پارلیمنٹ کے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور روزمرہ زندگی سے متعلق مسائل کے حل کو ترجیح دیں، جبکہ قومی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مؤثر قانون سازی پر توجہ مرکوز کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ ملک کی ترقی، استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ میں کلیدی کردار رکھتی ہے، اس لیے ارکانِ پارلیمنٹ کو حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے، تاہم قانون سازی کے حوالے سے اپنی آئینی اور خودمختار حیثیت کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے