English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوران 20 امریکی اڈوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف

القمر

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی کے دوران ہونے والے حملوں سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم متعدد امریکی فوجی تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا۔

برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں مبینہ طور پر ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ایرانی حملوں کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے 8 مختلف ممالک میں واقع کم از کم 20 امریکی فوجی اڈے اور دفاعی تنصیبات ان کارروائیوں سے متاثر ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے فروری کے آخری ہفتوں سے خطے میں موجود اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فضائی دفاع کے جدید نظام، نگرانی کے آلات، ریڈار مراکز اور جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔ متاثرہ تنصیبات کی بحالی پر لاکھوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وائٹ ہاؤس متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

تاہم دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ شواہد اور سامنے آنے والی تصاویر اس تاثر سے مختلف منظر پیش کرتی ہیں، امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے جوابی حملے پہلے ظاہر کی گئی معلومات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر، منظم اور ہدف پر مرکوز تھے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے بھی خطے میں ہونے والی عسکری کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے ایک امریکی “ایم کیو-1 پریڈیٹر” بغیر پائلٹ طیارہ مار گرائے جانے کے بعد امریکا نے ایرانی حدود میں موجود ریڈار نظام اور بغیر پائلٹ طیاروں کے کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔

ادھر ایرانی حکام نے بھی امریکی کارروائیوں کے جواب میں اپنی جوابی تدابیر اور حملوں کی تصدیق کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران فوجی کارروائیوں کا دائرہ توقعات سے کہیں زیادہ وسیع رہا۔ مبصرین کے مطابق سامنے آنے والی نئی معلومات خطے کی سلامتی کی صورتحال اور حالیہ تنازع کے حقیقی اثرات کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • دانیال عدنان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے