واشنگٹن: ایران کے جزیرے قشم پر امریکی فضائی کارروائی کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا نیا اور خطرناک دور شروع ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ انہوں نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے، جس کا مقصد میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دینا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جوابی کارروائی میں ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر سمیت اہم تنصیبات پر میزائل اور ڈرون برسانے کا دعویٰ کیا، جس سے علاقے میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اور اتحادیوں کے دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔ کویت کی جانب داغے گئے 2 میزائل راستے میں ہی گر گئے جبکہ بحرین کی طرف آنے والے 3 میزائل تباہ کر دیے گئے۔
اس کشیدگی کے نتیجے میں بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن مسلسل بج رہے ہیں، جبکہ وزارت داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں کے اندر رہنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
امریکی فوج نے کارروائی کے دوران بوٹسوانا کا پرچم بردار ایک آئل ٹینکر بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ان کے ٹینکر کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی جارحیت کا جواب دینا ناگزیر تھا اور وہ خطے میں اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کی بھاری قیمت امریکا کو ہر صورت چکانا پڑے گی، جس سے عالمی مارکیٹ میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔
خطے میں جاری اس تازہ کشیدگی کے بعد عالمی طاقتوں نے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، تاہم تاحال دونوں جانب سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے خدشہ ہے کہ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
