سنگاپور: ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے مضبوط برادرانہ تعلقات پر بھارت کی بے جا تنقید کو مسترد کر دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترمیہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط گہرے سفارتی، سیاسی اور دفاعی مراسم موجود ہیں۔
ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ بھارت کو ترکیہ اور پاکستان کی دوستی کو اپنے خلاف کوئی اقدام یا دشمنی قرار نہیں دینا چاہیے۔ کسی بھی آزاد ملک کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات پر بھارت کا ناراض ہونا اس کی ناقص خارجہ پالیسی اور عدم تحفظ کا عکاس ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ دنیا کا واحد ملک نہیں جس کے پاکستان کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ اگر بھارت صرف اس بنیاد پر ممالک سے ناراضگی کا اظہار کرے گا کہ ان کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، تو یہ طرزِ عمل سفارتی آداب کے سراسر منافی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہاکان فیدان کا یہ دوٹوک بیان عالمی سطح پر بھارتی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ بھارت کا پرانا وتیرا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے ہر ملک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی بین الاقوامی سیاست میں بھارت کو یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ دیگر ممالک کے خودمختار فیصلوں کا احترام ہی کامیاب خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ دوسرے ملکوں کے داخلی اور خارجہ امور میں بے جا مداخلت اور تنقید سے بھارت کا اپنا عالمی تشخص متاثر ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلقات تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور مسئلہ کشمیر سمیت اہم عالمی معاملات پر ترکیہ مسلسل پاکستان کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہاکان فیدان کا یہ بیان ثابت کرتا ہے کہ ترکیہ اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کا روادار نہیں ہے۔
