اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں عدلیہ کے انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کروڑوں روپے کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی رہائش گاہوں کی تعمیر و تزئین کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جانے کی سفارش کردی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آنے والے مالیاتی سال کے وفاقی بجٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی رہائش گاہوں کی تعمیر اور توسیعی منصوبوں کے لیے خطیر رقم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، ان نئے منصوبوں پر مجموعی طور پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر معزز جج صاحبان کی رہائش گاہوں کی تعمیر اور ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا حصہ رکھنے کا کہا گیا ہے، اس منصوبے کے لیے بجٹ میں 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ فنڈز ججز کی رہائش گاہوں کے لیے زمین کی خریداری، حفاظتی بائونڈری وال کی تعمیر، اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے گارڈ رومز کی تعمیر پر خرچ کیے جانے کی تجویز ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ بجٹ میں وفاقی آئینی عدالت کے جج صاحبان کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے، وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی نئی رہائش گاہوں کی باقاعدہ تعمیر پر 30 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
عدالتی شعبے میں شروع کیے جانے والے ان تمام نئے ترقیاتی اور سکیورٹی منصوبوں پر مجموعی طور پر 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، تاکہ وفاقی دارالحکومت میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کو فول پروف سکیورٹی اور جدید رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں، ان تجاویز کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
