اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی بھی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے شہر کی انتظامی حیثیت میں تبدیلی کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وسائل کی منتقلی کے بعد وفاق شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فارمولے کی وجہ سے اہم قومی اور تزویراتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اس کے طریقہ کار میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے مستحقین کو فنڈز کی ادائیگی متعلقہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے کیونکہ یہ صوبائی دائرہ اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے نفاذ کے بعد غربت کے خاتمے کے پروگرام چلانا صوبوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ وفاق پر ان مالی بوجھ کو کم کر کے صوبوں کو ان کے ترقیاتی اہداف کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام میں توازن لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وفاقی حکومت اپنے قومی ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت اور کامیابی کے ساتھ مکمل کر سکے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کا انحصار وفاق اور صوبوں کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ پر ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت آئین کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے گی اور کسی بھی غیر ضروری قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دے گی۔
