پشاور: خیبر پختونخوا میں نہروں میں کچرا، پولی تھین بیگز اور گندے پانی کے اخراج کے خلاف دو ہزار پندرہ میں سخت قانون سازی کے باوجود گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث صوبے بھر کی نہریں شدید آلودگی کا شکار ہیں۔
صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ قانون کے مطابق نہروں میں کچرا پھینکنا، غیر قانونی سیوریج کنکشن لگانا اور نہری زمینوں پر تجاوزات قائم کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔ قانون میں خلاف ورزی پر دو سال تک قید اور بیس ہزار روپے تک جرمانے کی سزا بھی مقرر کی گئی تھی، تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پشاور سمیت مختلف اضلاع میں نہری نظام بدستور کچرے اور آلودگی کا شکار ہے، جبکہ شہری علاقوں سے آنے والا سیوریج اور پلاسٹک کا فضلہ بڑی مقدار میں نہروں میں شامل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث حکومت کو ہر سال نہریں صاف کرنے اور ڈی سلٹنگ کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صوبے بھر میں تقریباً دو ہزار تیس کلومیٹر نہروں کی صفائی کے لیے چوالیس کروڑ بارہ لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آبپاشی کے نظام کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے مجموعی طور پر ایک ارب بارہ کروڑ روپے سے زائد کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کچرا ٹھکانے لگانے کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث شہری مجبوری میں نہروں کو کچرا دان کے طور پر استعمال کرتے ہیں، متعلقہ ادارے کئی علاقوں کو اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے کر ذمہ داری قبول نہیں کرتے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کے مطابق شہر میں روزانہ سات سو سے ایک ہزار ٹن تک کچرا پیدا ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ مناسب طریقے سے جمع نہ ہونے کے باعث نالوں اور نہروں میں جا گرتا ہے۔ سالانہ بنیاد پر شہر میں تقریباً تین لاکھ چوبیس ہزار ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے۔
پشاور کے مختلف علاقے جیسے ہزار خوانی، گل بہار، بورڈ بازار، یکہ توت اور اندرون شہر ایسے مقامات بن چکے ہیں جہاں گھریلو کچرا، پلاسٹک اور بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج کا پانی براہ راست نہروں میں پھینکا جاتا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے ایگزیکٹو انجینئر شیرین خان مومند نے اعتراف کیا ہے کہ قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا، آلودگی پھیلانے والوں کی نشاندہی کی جاتی ہے مگر سزا دینے کا اختیار انتظامی کمشنر کے پاس ہے جبکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کی کمی اور مجسٹریسی نظام کی کمزوری قانون کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
نتیجتاً سخت قانون سازی کے باوجود زمینی سطح پر بہتری نہ آ سکی اور نہری نظام بدستور آلودگی اور انتظامی غفلت کی تصویر پیش کر رہا ہے۔
