اسلام آباد:تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنماءمصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ عمران خان کو نہیں توڑسکتے، حکومت تو یہ سوچنا ہی چھوڑ دے۔
پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات، آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال اور عمران خان سمیت دیگر سیاسی اسیران کی قید اور ان سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اپوزیشن نے جی بی کے انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سلیکشن قرار دے دیا۔
اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معروف سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے الیکشن کمیشن اور مقتدر حلقوں پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ کل گلگت بلتستان میں جو کچھ ہوا، وہ الیکشن نہیں بلکہ ایک کٹھ پتلی سلیکشن پراسس تھا، جو دراصل 8 فروری کے عام انتخابات کا کاربن کاپی یا ری پلے تھا۔
سسٹم کو اس نہج پر نہ لے کر جائیں کہ پورا پاکستان اس پورے نظام کو بے معنی اور کھلواڑ سمجھنے لگے بلوچستان کے نوجوان اسی ناقص اور غیر جمہوری نظام کی وجہ سے ریاست سے دور ہو گئے ہیں۔
مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں اقتدار کو ریوڑیوں کی طرح بانٹا جائے گا، اپوزیشن کو لیول پلیئنگ فیلڈ بالکل نہیں دیا گیا اور لوگوں کو زبردستی صوبہ بدر کیا جاتا رہا، اسی لیے ہم اسے الیکشن نہیں سمجھتے اور نہ ہی تسلیم کرتے ہیں۔
اسی طرح آزاد کشمیر بھی پاکستان کا ایک انتہائی حساس حصہ ہے اور وہاں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔
پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اس اندرونی خلفشار اور موقع کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرے گا، جس پر ریاست کو فوری سنجیدگی دکھانی چاہیے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے مقتدر حلقوں اور حکومت کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عمران خان کو کسی بھی حربے سے نہیں توڑ سکتے۔
ب یہ بات اپنے ذہنوں سے نکال دیں، اگر حکومت اگلے 6 ماہ مزید بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ کروائے، تب بھی وہ ٹوٹنے والا نہیں ہے، حکومت تو یہ سوچنا ہی چھوڑ دے کہ عمران خان ایسی اوچھی اور انتقامی چیزوں سے ڈر جائے گا۔
