English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شہریوں کو تیزاب کی فروخت پر پابندی: تیزاب گردی ناقابلِ معافی جرم قرار

القمر

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے ایک سنگین مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے مجرم عبدالمنان کی کم عمری کی بنیاد پر نرمی کی درخواست مسترد کر دی اور اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کو معاوضہ دینے اور ملک بھر میں تیزاب گردی کے مقدمات کے حوالے سے اہم پالیسی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ تیزاب گردی جیسے بہیمانہ اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے جرائم میں کم عمری کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا۔

عدالت نے فیصل آباد کی رہائشی خاتون اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم عبدالمنان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ سپریم کورٹ نے متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے کیونکہ قتل انسان کی زندگی ایک بار ختم کرتا ہے جبکہ تیزاب کا شکار شخص ہر روز اذیت میں زندہ رہتا ہے اور ایک طرح سے “زندہ لاش” بن جاتا ہے، ایسے جرائم میں کسی قسم کی نرمی یا رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر کی ہائی کورٹس کو ہدایت کی کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا ٹرائل ہر صورت چار ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور ان مقدمات کی خود نگرانی کی جائے تاکہ تاخیر سے متاثرین کو مزید ذہنی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے، تاخیر سے انصاف کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔

عدالت نے عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت بھی جاری کی اور کہا کہ تیزاب کی خرید و فروخت کو سخت ضابطے کے تحت لایا جائے، تیزاب کی خریداری کے لیے شناختی دستاویز اور بائیومیٹرک نظام لازمی بنایا جائے تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ تیزاب گردی کے متاثرین کے لیے ایک قومی بحالی فنڈ قائم کیا جائے جس کے ذریعے متاثرین کے علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی علاج اور بحالی کے تمام اخراجات ریاست برداشت کرے،مستقل معذور یا بے روزگار ہونے والے متاثرین کو ماہانہ مالی معاونت فراہم کی جائے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تیزاب گردی کے متاثرین کو معذوری کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں اور انہیں سرکاری نوکریوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی اسکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں، متاثرین کی سماجی تنہائی اور نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے خصوصی بحالی پروگرام تشکیل دیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو حکم دیا کہ فیصلے کی نقول تمام ہائی کورٹس، وزارت قانون، پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف، اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو ارسال کی جائیں تاکہ ان ہدایات پر فوری عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

یہ فیصلہ ملک میں تیزاب گردی کے خلاف قانونی سختی، متاثرین کے حقوق اور عدالتی نگرانی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے