
نئی دہلی — بھارت میں 16 ریاستوں کے اندر ووٹر لسٹوں سے نام خارج ہونے اور انتخابی فہرستوں کی ہنگامی جانچ (SIR) کے بیچ ایک بڑا قانونی دھماکہ ہوا ہے۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بدھ کے روز صاف لفظوں میں کہا ہے کہ بھارتی پاسپورٹ کا اصل مقصد شہریوں کو بین الاقوامی بندرگاہوں اور بیرونی ممالک کے سفر میں سہولت فراہم کرنا ہے، اور اس کا موازنہ ان دستاویزات سے نہیں کیا جانا چاہیے جو بنیادی شہریت کے حقوق قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں
ووٹر لسٹ سے اخراج کا چیلنج اور پاسپورٹ کی حیثیت
میڈیا کی طرف سے جب عہدیدار سے یہ اہم سوال پوچھا گیا کہ: "کیا موجودہ وقت میں 16 ریاستوں کے اندر چل رہی ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرِ ثانی (Special Intensive Revision) کے دوران، اگر کسی کا نام لسٹ سے نکال دیا جائے، تو کیا وہ اپنے انڈین پاسپورٹ کو بطورِ ثبوت دکھا کر اس فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے؟”
اس کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے سینیئر عہدیدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:
"پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا دستاویز (Document of Citizenship) نہیں ہے۔ اگر ہم نظریاتی طور پر بات کریں، تو یہی ایک چیز پاسپورٹ کو دیگر دستاویزات سے الگ کرتی ہے۔ اگرچہ بیرونِ ملک سفر کے دوران پاسپورٹ آپ کی قومیت کی تصدیق ضرور کرتا ہے، اس کے باوجود یہ آپ کی شہریت کا حتمی دستاویز نہیں ہے۔”
پاسپورٹ نہیں تو پھر کیا؟ بھارت میں شہریت کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
وزارتِ خارجہ (MEA) کی طرف سے یہ صاف کیے جانے کے بعد کہ ‘انڈین پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز ہے، شہریت کا نہیں’، ملک بھر کے عام شہریوں میں یہ الجھن پیدا ہو گئی ہے کہ آخر ان کی شہریت کا فیصلہ کس بنیاد پر ہوتا ہے۔ قانونی حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں شہریت کسی ایسے دستاویز سے طے نہیں ہوتی جسے آپ فارم بھر کر خرید لیں یا اپلائی کر دیں؛ بلکہ یہ مکمل طور پر سٹیزن شپ ایکٹ، 1955 (Citizenship Act, 1955) کے سخت اور کثیر السطحی قوانین کے تحت چلتی ہے۔
اس قانون کے مطابق، کوئی بھی شخص بھارت کا شہری صرف 5 طریقوں سے بن سکتا ہے: پیدائش ، نسل/نسب ، رجسٹریشن ، نیچرلائزیشن ، یا کسی نئے علاقے کا بھارت میں انضمام ۔
اگر آپ بھارت میں پیدا ہوئے ہیں، تو آپ کی شہریت کا تعین درج ذیل 3 اہم تاریخی ادوار سے ہوتا ہے:
بھارت میں پیدائش کے ذریعے شہریت کے 3 بڑے اصول
بھارت کے آئین اور قانون کے تحت، صرف بھارت کی زمین پر پیدا ہو جانا شہریت کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس کے لیے آپ کی تاریخِ پیدائش اور آپ کے والدین کی قومیت کو دیکھا جاتا ہے:
دورِ اول: 26 جنوری 1950 سے 1 جولائی 1987 کے درمیان
اگر آپ کی پیدائش 26 جنوری 1950 کو یا اس کے بعد، لیکن 1 جولائی 1987 سے پہلے بھارت کی سرزمین پر ہوئی ہے، تو آپ قانوناً پیدائشی طور پر انڈین شہری ہیں۔ اس دور میں سب سے نرم قانون تھا—اس وقت آپ کے والدین کی قومیت یا نیشنلٹی کیا تھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ اس دوران بھارت میں پیدا ہوئے، تو آپ ہندوستانی ہیں۔
دورِ دوم: 1 جولائی 1987 سے 3 دسمبر 2004 کے درمیان
اگر آپ کی پیدائش 1 جولائی 1987 کو یا اس کے بعد ہوئی ہے، تو قانون سخت کر دیا گیا تھا۔ اس دور میں پیدا ہونے والا بچہ صرف اسی صورت میں بھارت کا شہری مانا جائے گا جب اس کی پیدائش کے وقت اس کے والدین (اماں یا ابا) میں سے کم از کم کوئی ایک لازمی طور پر بھارت کا شہری ہو۔ صرف بھارت کی مٹی پر پیدا ہونا اب کافی نہیں رہا تھا۔
دورِ سوم: 3 دسمبر 2004 کے بعد سے اب تک
اگر آپ یا آپ کا بچہ 3 دسمبر 2004 کو یا اس کے بعد پیدا ہوا ہے، تو شہریت کا قانون سب سے زیادہ سخت اور فول پروف ہو چکا ہے۔ اس قانون کے تحت بچہ بھارت کا شہری تبھی کہلائے گا جب:
پیدائش کے وقت اس کے دونوں والدین (اماں اور ابا دونوں) بھارتی شہری ہوں۔
یا پھر، والدین میں سے کوئی ایک بھارتی شہری ہو اور دوسرا ‘غیر قانونی تارکِ وطن’ نہ ہو۔
