ایس بی سی اے کے افسران کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہونے پر جعلساز بلڈرز نے شہریوں کو اپنے گھر کا سہانا خواب دکھا کر کنگال کردیا
سپر ہائی وے،نادرن بائی پاس،دیہہ اللہ پیائی،شاہ مرید سمیت دیگر علاقوں میں رہائشی پلاٹس کی بیشتر اسکیمیں بوگس ہونے کا انکشاف
بلڈرز نے ایس بی سی اے سے این او سی لیکر بکنگ کی،سالوں شہریوں سے قسطیں وصول کیں اور بعدازاں اراضی فروخت کردڈالی،ذرائع
پلاٹس کی اسکیموں کو 30سال تک گزر گئے نہ شہریوں کو قبضہ ملا اور نہ ہی انفراسٹرکچر بنایا جاسکا،لاکھوں شہری در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور
نیب کی تحقیقات پر ایس بی سی اے سروے کرنے پر مجبور ہوگیا،بااثر بلڈرز کو بچانے کی کوششیں شروع ہوگئیں ،شہری حلقوں میں تشویش
بلڈرز کی ایسوسی ایشن کے موجودہ اور سابقہ اہم عہدیداروں سمیت نامی گرامی بلڈرز بھی شہریوں کو لوٹنے والوں میں شامل ہیں ،ذرائع
کراچی(وقا ئع نگار خصوصی)کراچی کے شہریوں سے بڑا فراڈ، عوام کے کھربوں روپے داؤ پر لگ گئے،رہائشی پلاٹس کے نام پر شہریوں کی جمع پونجی لوٹ لی گئی، بکنگ کر کے شہریوں سے اربوں روپے وصول کرنے والے بلڈرز کی اسکیمیں ہی بوگس ہونے کا انکشاف،نیب کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات متوقع،ایس بی سی اے افسران کی پشت پناہی، کئی سال گزرجانے کے باوجود قبضہ نہ دینے پر مذکورہ بلڈرز کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جاسکی،جعلساز بلڈرز کے پاس بکنگ کرانے والے لاکھوں شہری رل گئے،عمر بھر کی کمائی اور خواب چکنا چور ہونے لگے،انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کراچی کے عوام کے ساتھ گذشتہ30سالوں سے جعلساز بلڈرز کی جانب اپنے گھر کا سہا نا خواب دکھاکر اربوں روپے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ جعلساز بلڈرز ایس بی سی اے افسران اور حکام کی پشت پناہی کے باعث انتہائی دیدہ دلیری سے آج بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں،ایس بی سی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے نامی گرامی بلڈرز بھی عوام سے اربوں روپے لوٹنے والوں میں شامل بتائے جاتے ہیں تاہم ایسوسی ایشن کے اہم عہدوں پر موجودہ اور سابقہ تعینات رہنے والے مذکورہ بلڈرز کیخلاف سندھ حکومت کی جانب کسی قسم کی کارروائی کے بجائے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث ان جعلساز بلڈرز کی رہائشی اسکیموں میں بکنگ کرانے والے لاکھوں شہری در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور آج بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے پاس ادائیگیوں کی رسید موجود ہیں اور انہیں جلد قبضہ مل جائے گا،جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر بلڈرز کی جانب سے پلاٹس کی متعارف کرائی گئیں اسکیموں کی اراضی تک موجود نہیں ہے،ذرائع نے اس حوالے سے خوفناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایس بی سی اے کے حکام کی بلڈرز مافیا کی پشت پناہی کے باعث ان اسکیموں کو بروقت مکمل نہ کئے جانے پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاسکی جس کے باعث ان بلڈرز نے مذکورہ اراضی جس پر رہائشی پلاٹس کی اسکیم شروع کی تھی عوام سے اربوں روپے لوٹ کر اراضی سے دستبردار ہوکر فروخت کردی ہیں یا منتقل کرالی ہیں،ایس بی سی اے کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات پر ایس بی سی اے ایسی اسکیم کا سروے کرنے پر مجبور ہوگیا ہے تاہم اس سروے میں بھی حقائق کو چھپانے کی کوششیں جاری ہیں،اس سلسلے میں 30سے زائد رہائشی پلاٹس کی اسکیموں کا سروے کرلیا گیا ہے جبکہ مذکورہ بنائے جانے والے سروے میں طاقتور بلڈرز کو بچانے کیلئے بھی مک مکا کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں،کراچی کے شہریوں سے کھربوں روپے لوٹنے والے جعلساز بلڈرز کیخلاف شہری حلقوں سے اعلی تحقیقاتی اداروں سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رہائشی پلاٹس کی اسکیموں کی این او سی برائے تشہیر وفروخت حاصل کرنے کیلئے بھی بڑی جعلسازیاں کی گئی ہیں۔،ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے جاری تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات اور ان جعلساز بلڈرز کی جلد گرفتاریوں کا امکان ہے۔

