ڈاکٹر فاروق ستا ر کا غذات نامزدگی جمع کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کے آفس آئے تو دوسرے گروپ کے رہنما کرسیوں پر بیٹھے رہے
فیصل سبزواری بات چیت کے دوران آبدیدہ ہوگئے ٗ میں بڑا ہوں صورتحال سنبھال لونگا ٗ فاروق ستار کی تسلی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم نظر آئی، دونوں دھڑوں کے رہنما اپنے امیدواروں کے ساتھ الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرانے آئے، وہ ایک دوسرے سے اجنبی بنے رہے اور ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کیں تو ان میں سرد مہری دیکھنے میں آئی اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار الیکشن کمیشن پہنچے تو دوسرے دھڑے کے رہنما اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہے اور تھوڑی دیر بعد فاروق ستار خود ان سے ملنے گئے تو ایم کیو ایم بہادر آباد کے رہنما فیصل سبزواری نے انتہائی جذباتی انداز میں فاروق ستار سے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں شرمندگی ہورہی ہے اس پر فاروق ستار نے کہا کہ میں بڑا ہوں صورتحال کو سنبھال لوں گا ور پارٹی کو تقسیم نہیں ہونے دوں گا اس پر فیصل سبزواری آبدیدہ ہوگئے ۔ فاروق ستار نے ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر انہیں تسلی دی اس موقع پر فیصل سبز واری میئر کراچی وسیم اختر کے ساتھ لپٹ کر رونے لگے دونوں دھڑوں کے لوگ اگرچہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے اختلافات نہیں ہیں لیکن وہ تین گھنٹے تک ایک دوسرے سے الگ تھلگ بیٹھے رہے سب سے پہلے ایم کیو ایم کے رہنما کامران ٹیسوری اپنے تجویز اور تائید کنندہ ارکان سندھ اسمبلی جمال احمد اور وسیم قریشی کے ساتھ الیکشن کمیشن آئے اور کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اس کے بعد ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ کے لوگ اپنے امیدواروں کے ساتھ وہاں پہنچے آخر میں ڈاکٹر فاروق ستار اپنے امیدواروں کے ساتھ الیکشن کمیشن آئے ایک ہی پنڈال میں ہوتے ہوئے وہ الگ الگ بیٹھے رہے اور میڈیا کو دکھانے کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے لیے آئے لیکن یوں محسوس ہورہا تھا کہ ان کے درمیان معاملات طے ہونے میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔
متحدہ میں انتشار ڈرامہ ہے‘ بانی بھی یہی کرتے تھے‘ خرم شیر زمان
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے جنرل سیکریٹری وسندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سینیٹ الیکشن میں سیاسی قائدین کے انتخاب کے معاملے پر انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے جو محض ایک ڈرامہ ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ماضی میں بانی متحدہ اس قسم کی حرکتیں کرتے تھے اور اب ایم کیو ایم کے دیگر رہنما اپنے قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہی ڈرامے بازیاں کر رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت فردِ واحد کو موردِ الزام ٹھہرایا جاسکتا تھا لیکن اب پوری پارٹی ہی اس ڈرامے کے مختلف کردار نبھانے میں دن رات مصروف ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پارٹی تقسیم نہیں ہوسکتی تو کہیں سے خبر آرہی ہے کہ اختلافات جوں کے توں برقرار ہیں۔متحدہ کی کشتی کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچاسکتا پیپلز پارٹی
ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں، ہمارے دروازے کھلے ہیں
ہم انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت پر یقین نہیں رکھتے، سعید غنی اور وقار مہدی کی پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر و رکن سندھ اسمبلی سعید غنی نے متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین سندھ اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی کشمکش میں ایم کیو ایم سے علیحدہ ہوکر پیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں کیونکہ متحدہ کی کشتی کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔ ہماری پارٹی میں ان کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم سینیٹ کے انتخابات میں صرف ایک نشست ہی حاصل کرسکے گی کیونکہ اس کے بہت سے اراکین اسمبلی پی ایس پی میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ کچھ اراکین ملک سے باہر ہیں اور جو سیاست کررہے ہیں وہ انتشار کا شکار ہیں۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بلاول ہاؤس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی جنرل سیکریٹری وقار مہدی و دیگر بھی موجود تھے ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ہم انتخابات میں ووٹوں کی خریدوفروخت پر یقین نہیں رکھتے عوام کی طاقت سے ہی ہمیشہ اقتدار حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج الطاف حسین کا خوف ختم ہوچکا ہے اس لیے ایم کیو ایم کے نمائندوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور لوگ اپنی بات کہنے میں آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ ایم کیو ایم کے 10 اراکین سندھ اسمبلی ہم سے رابطے میں ہیں موجودہ غیر یقینی صورتحال میں دیگر جماعتوں کے اراکین بھی پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات کراچی میں بسنت وقت سے پہلے آگئی بلاول بھٹو
میں نے پہلے ہی لکھ دیا تھا ایم کیو ایم کا بو کاٹا جلد ہوجائے گا
ایم کیو ایم میں بہت دراڑیں پڑچکی ہیں، خورشید شاہ کی بات چیت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی بول پڑے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بلاول بھٹو زرداری نے لکھا کہ کراچی میں بسنت وقت سے پہلے آگئی۔ ہیش ٹیگ میں آئی ٹو لڈ یوسو لکھ کر بلاول نے واضح کیا کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا ایم کیو ایم کا بوکاٹا جلد ہوجائے گا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے درمیان گروپنگ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب پارٹی ٹوٹتی ہے تو اس میں دراڑیں پڑتی ہیں اور ایم کیو ایم میں بہت بڑی دراڑیں پڑچکی ہیں تاہم ایم کیو ایم میں سامنے آنے والی گروپنگ کا سندھ کے عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی وجہ سے سندھ کے عوام نہیں رل سکتے سندھ کے عوام کے اپنے فیصلے ہیں۔نادان دوستوں سے کہتا ہوں فاروق ستار کی نیت پر شک نہ کریں ٗ کامران ٹیسوری
فاروق ستار کے حکم پر ایک منٹ میں دستبردارہوجاؤ نگا
پارٹی سربراہ کی حیثیت ٹیم کے کپتان کی طرح ہوتی ہے
سینیٹ کیلئے کاغذات جمع کرانے کے بعد مےڈیا سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کو 24 اگست کے مشکل وقت سے نکالا نادان دوستوں سے کہتا ہوں کہ فاروق ستار کی نیت پر شک نہ کریں۔ جمعرات کو صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ مجھے فاروق ستار بھائی کی جانب سے آج یہا ں بھیجا گیا ہے میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے موجودہ صورتحال میں جاگ کر ہمارے لیے اپنی فکرمندی ظاہر کی اور محبت کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار بھائی کے حکم پر ایک منٹ میں دستبردار بھی ہوجاؤں گااور وہ کہیں گے تو کھڑا ہوں گا ۔ ایک سوال کے جواب میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ اختلافات تو سگے بھائیوں میں بھی ہوتے ہیں لیکن ہم سب کو فاروق ستار بھائی پر یقین ہے جو ماضی میں بھی مشکل حالات سے پارٹی کو نکال کر لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کی حیثیت ٹیم کے کپتان کی سی ہوتی ہے مرضی ہوتی ہے وہ کس کو پہلے کھلائے اور کس کو بعد میں یہ اس کی حکمت عملی والا فیصلہ ہوتا ہے کسی کو ان کی قابلیت اوراعتماد پر شک نہیں ہونا چاہیے ان کے لیے کسی جانب سے بھی شک پیدا ہونا غلط ہے۔ انہوں بتایا کہ فاروق بھائی کا کردار صاف ہے ان کے دشمنوں نے بھی کبھی ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ایم کیو ایم کو یکجا کرنے کی کوشش کرینگے، نسرین جلیل
میرے علاوہ فروغ نسیم، کنور زہرہ اور عامر چشتی ہماری جانب سے سینیٹ کے امیدوار ہیں
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کی رہنما اور سابق سینیٹر نسرین جلیل نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کو یکجا کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ بیرسٹر فروغ نسیم، کشور زہرہ اور عامر چشتی ہمارے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔ ایک سوال پر نسرین جلیل نے کہا کہ رابطہ کمیٹی بعد میں معاملات فائنل کرے فی الحال تو ہم کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہیں ہم انتظار کررہے ہیں کہ فاروق ستار بہادر آباد آئیں کامران ٹیسوری سے متلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا ایک پس منظر ہے جسے میں یہاں بیان نہیں کرسکتی۔سینیٹ الیکشن ٗ ایم کیو ایم کے کسی امیدوار نے پارٹی ٹکٹ جمع نہیں کرایا
پارٹی ٹکٹ میں جاری کردونگا ٗ فاروق ستا ر ٗ پارٹی کے فیصلوں کا حقیقی فورم رابطہ کمیٹی ہے ٗ فروغ نسیم
کراچی(اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے دونوں دھڑوں کے سینیٹ کے کسی بھی امیدوار نے پارٹی ٹکٹ جمع نہیں کرایا اور صوبائی الیکشن کمشنر سے کہا کہ وہ اسکروٹنی کے وقت پارٹی ٹکٹ جمع کرادیں گے۔ پارٹی ٹکٹ کون دے گا اس پر ایم کیو ایم کے دونوں دھڑے مختلف موقف اختیار کرتے رہے۔ ایم کیوایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ میں جاری کروں گا جبکہ ایم کیو ایم کے دوسرے دھڑے کے سینیٹ کے امیدوار بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پارٹی کے فیصلوں کا حقیقی فورم رابطہ کمیٹی ہے جو فیصلہ کرے گی کہ پارٹی ٹکٹ کس کو دینا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کو جب بیرسٹر فروغ نسیم کی یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے بار بار یہ کہا کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ فروغ نسیم یہ بات کرسکتے ہیں۔

