سربراہ اختیار نہیں اعتماد مانگتا ہے، فاروق ستار کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور تنظیم چلائیں ان کی کوئی مجبوری ہے تو وہ آکر بتائیں کارکن وہ مجبوری ختم کردینگے، کنوینئر ایم کیو ایم پاکستان
فیصلے میرٹ پر ہوں گے اور رابطہ کمیٹی ہی فیصلے کرے گی، متحدہ قومی موومنٹ اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی، گلشن اقبال میں جنرل ورکرز اجلاس میں میئر کراچی وسیم اختر ،رئوف صدیقی، عبدالحسیب اور دیگر رہنمائوںکا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان(بہادرآباد گروپ) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور تنظیم چلائیں لیکن پارٹی آئین سے بالاتر ہوکر نہیں سربراہ اختیار مانگتا نہیں ہے بلکہ اختیار دیتا ہے سربراہ باکردار ہو تو اختیار خود مل جاتا ہے ہزاروں کارکنوں نے آکر پارٹی توڑنے کے خواب چکنا چور کردیئے ۔ وہ جمعے کو گلشن اقبال بلاک B-13 میں واقع منگل بازار گرائونڈ میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطا ب کررہے تھے۔ اجلاس سے رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، ڈپٹی کنوینر و میئر کراچی وسیم اختر ، رابطہ کمیٹی کے ارکان رئوف صدیقی، محمد حسین، عبدالحسیب اور فیصل سبزواری نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ قیادت وہ صلاحیت ہے جو بصیرت کو حقیقت کا روپ دیتی ہے فاروق ستار کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کنوینر شپ کی پوسٹ میرے پاس آپکے لیے امانت ہے میں اس لیے کنوینر بنا کہ خلیج زیادہ گہری نہ ہو آپ آئین کے مطابق آکر تنظیم کو چلائیں ہماری پہلے ذمہ داری آباواجداد کی امانت یہ پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ 22 اگست کے بعد سے ایم کیو ایم فیصلے یہاں نہیں کرتی آپ دیکھ لیں کہ 15 دنوں میں ایم کیو ایم کے آئین کو بچایا گیا ہے اور کارکنان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی ڈاکٹر فاروق ستار کو اگر کوئی مجبوری ہے تو ہمیں بتائیں یہ کارکنان وہ مجبوری ختم کردیں گے۔ سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا کہ یہ بہت تکلیف ، دکھ اور اذیت کا وقت ہے اور اس وقت میں کارکنان کو اصل حقیقت بتانا ہے اور اس کے بعد کارکنان خود فیصلہ کریں کہ ان کو پارٹی کے آئین، اصول و قواعد، میرٹ کے ساتھ یا شخصیات کے ساتھ چلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج اپنا ذاتی مقدمہ بھی رکھنا چاہتا ہوں کہ میرے لیے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ میں پارٹی پر قبضہ اور قیادت حاصل کرنا چاہتا ہوں، طویل عرصے الزامات لگائے گئے کبھی غدار، ایجنٹ اور سازشی کہا گیا میں سنتا رہا کبھی اف نہیں کیا لیکن آج کہتا ہوں کہ میں نے جب بھی اختلاف کیا اصول اور کارکنان کے لیے کیا اور یہ اختلاف میں کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر سطح پر کوشش کی کہ فاروق ستار کو جاکر منالیں فاروق ستار نے ایک مرتبہ بھی رابطہ کمیٹی کی گزارشات کو نہیں سنا آپ نے پارٹی آئین کے اندر ایسی تبدیلی کی کہ جو دنیا میں کسی شخص کے پاس اختیارات نہیں آپ نے ویٹو پاور لیا آپ نے کہا کہ میں جب چاہوں جس کو چاہوں خارج کردوں آپ نے کہا کہ پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد میری مرضـی کے نتائج نہیںآئے تو میں اسے بھی کالعدم کردوں گا آپ نے یہ آئین رابطہ کمیٹی کی ٹو تھرڈ مجارٹی سے ہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ایم کیو ایم یہاں موجود ہے اور اس کے علاوہ کوئی گروہ ہوسکتا ہے۔ ڈپٹی کنوینر و میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ پارٹی میں فیصلے میرٹ پر ہوں گے اور رابطہ کمیٹی پاکستان ہی کرے گی۔ انہوںنے فاروق ستار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر آباد آئیں اصل آفس یہی ہے کوئی دوسرا آفس نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سینیٹ کی سیٹ پیاری نہیں آپ پیارے ہیں انہوں نے کہا کہ کیا کسی کے ایجنڈے پر کام ہورہا ہے؟ آپ تو پارٹی کی تقسیم کرنے میں خود پارٹی بن گئے ہیں آپ مجھے کیا ہٹائیں گے میں جیل سے الیکشن لڑ کر میئر منتخب ہوا ہوں میں خود میئر شپ کو لات مارتا ہوں۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ پیسے اور دوستی کی بنیاد پر ذمہ داری اور مرتبے کا تعین نہیں ہوگا اور یہ تنظیم نے ہمیں سکھایا ہے تنظیم میں بنیادی اصول کے قتل عام کو برداشت نہیں کرسکتے۔ رئوف صدیقی نے کہا کہ آپس کی باتوں میں اختلاف اور شدت بھی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ایم کیو ایم کے آئین پر کوئی سودا نہیں ہوسکتا۔ عبدالحسیب نے کہا کہ اجلاس میں اتنی بڑی تعدا دمیں حاضری اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم ایک شخصیت پر نہیں بلکہ دستور اور منشور کے ساتھ ہے۔

