قصور میں ہونے والے المناک واقعہ کی ججز نے پانچ دن تک یومیہ بارہ گھنٹے تک سماعت کی، فیصلہ گذشتہ روز محفوظ کرلیا گیا تھا، جو آج سنایا جائے گا
ملزم عمران نے قصور کی 7 سالہ زینب کو 4 جنوری کو اغواء کیا تھا اور جنسی زیادتی کرنے کے بعد لاش پھینک دی تھی، عوامی حلقوں کا سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک)آج صبح زینب قتل کیس کا فیصلہ سنانے کیلئے جج کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے مقدمے کے پراسیکیوٹر بھی جیل میں موجو دہیں فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائیگا۔ ملزم عمران کو پھانسی دیئے جانے کے امکانات ہیں۔ مقتولہ زینب کے والد بھی فیصلہ سننے کیلئے موجود ہیں۔ جبکہ ملزم عمران کے اہل خانہ یا رشتہ داروں میں سے کوئی فیصلہ سننے کیلئے نہیں آیا۔ زینب قتل کیس کا ٹرائل ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل ہے جس کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی۔ ججز نے5 دن تک یومیہ12 گھنٹے تک سمارت کی واضح رہے کہ قصور کی رہائشی7 سالہ بچی زینب کو 4جنوری کو اغواء کیا گیا۔ سفاک ملزم نے بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا جبکہ بچی کی لاش 9جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے کیس کا فیصلہ15 فروری کو محفوظ کرلیا تھا۔ ٹرائل کے دوران33 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ آج صبح زینب کی والدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم عمران کو جیل میں نہیں بلکہ سرعام پھانسی دی جائے جبکہ عوامی حلقوں نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے۔

