English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چیف جسٹس کی درخواست پر سپریم کورٹ بار نے ہڑتال کی کال واپس لے لی

القمر

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق بار کونسلز کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر کی تمام بار کونسلز سے ہڑتال واپس لینے کی درخواست کی تھی جس پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ہڑتال واپس لے لی ہے تاہم دیگر بار کونسلز کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے مشکل گھڑی میں غیر متزلزل حمایت پر تمام بار کونسلز سے اظہار تشکر کیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کل مختلف عدالتوں میں سائلین کے مقدمات مقرر ہوچکے ہیں لہٰذا وکلاء برادری انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتوں میں پیش ہو۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سائلین ان مقدمات کیلئے دور دراز علاقوں سے آتے ہیں اور ہڑتالوں سے عدالتوں کی معمول کی کارروائی متاثر ہوتی ہے جس سے لوگوں کی توقعات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔

سپریم کورٹ بار نے ہڑتال کی کال واپس لے لی
چیف جسٹس ثاقب نثار کی درخواست پر سپریم کورٹ بار نے ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار کلیم خورشید نے کہا کہ چیف جسٹس نے عوامی مفاد میں ہڑتال کی کال واپس لینے کا کہا تھا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر کلیم خورشید نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کے خلاف پیر کے روز ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیر کلیم خورشید نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ بار عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے اور ملزمان کےخلاف انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ جج صاحبان کے تحفظ پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔دوسری جانب صدر سندھ ہائیکورٹ بار محمد سلیم منگریو نے بھی فائرنگ کے واقعے کے خلاف پیر کو مکمل ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے جبکہ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پرفائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ افسوسناک ہے جس کے خلاف وکلاء پیر کو ملک بھر میں بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھیں گے اور احتجاج کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے