ایمپریس مارکیٹ میں پارکنگ پلازہ کے قریب واقع دو پولیس چوکیوں سمیت اولڈ سٹی ایریا میں بھی تمام چوکیاں گرادی گئیں
صدر میں جس جگہ پولیس چوکیاں بنائی گئی تھیں وہاں پہلے پتھارہ مافیا کا قبضہ تھا اب دوبارہ قبضہ ہوجائے گا، شہریوں کی تشویش
کراچی (رپورٹ عبدالوسیع قریشی) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے شہر میں غیر قانونی جگہوں پر قبضے کرکے بنائے گئے تھانوں اور پولیس چوکیوں کی مسماری کا عمل تیز کر دیا ہے، ایک روز قبل بلوچ کالونی تھانے کی عمارت کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ روز شہر میں انسداد تجاوزات سیل کی کارروائی، 8 ٹریفک پولیس چوکیاں مسمار کر دی گئیں۔ صدر ایمپریس مارکیٹ پر پارکنگ پلازہ کے قریب ٹریفک پولیس کی دو چوکیاں ایک ساتھ بنی ہوئی تھیں جن کو مسمار کر دیا گیا جبکہ اولڈ سٹی ایریا میں واقع پولیس چوکیاں بھی گرا دی گئیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے انسداد تجاوزات سیل ضلع جنوبی نے پیر کے روز کارروائیاں کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر ٹریفک پولیس چوکیوں کو مسمار کردیا، انسداد تجاوزات سیل نے میریٹ روڈ، میمن مسجد، جامع کلاتھ، کپڑا گلی، لی مارکیٹ، کھویا گلی اور صرافہ بازار میں کارروائیاں کیں جبکہ تجاوزات کے خلاف متعلقہ علاقوں میں کارروائیاں آج بھی جاری رہیں گی۔ سینئر ڈائریکٹر لینڈ بشیر صدیقی کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس چوکیوں کو عدالت عظمیٰ کے احکامات پر توڑا گیا ہے، اسی لیے ان کو مسمار کر رہے ہیں اور جہاں کہیں بھی پولیس چوکی غیر قانونی طور پر بنی ہوگی وہ گرا دی جائے گی۔ دوسری طرف شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جن مقامات پر پولیس چوکیاں مسمار کی گئی ہیں وہاں دوبارہ قبضہ مافیا آجائے گی، صدر ایمپریس مارکیٹ پر جس جگہ پولیس چوکیاں گرائی گئی ہیں وہاں پہلے پتھارہ اور ٹھیلہ مافیا کا قبضہ تھا جس کو چھڑا کر ٹریفک پولیس چوکیاں بنائی گئی تھیں، ان جگہوں پر پہلے جو مافیا قابض تھی ان میں 80 فیصد تعداد افغانیوں کی تھی جنہوں نے اب پاکستانی شہریت حاصل کرلی ہے اب چوکیاں ختم ہونے کے بعد اس جگہ دوبارہ ان کا قبضہ ہو جائے گا اور یہ جگہ ایک مارکیٹ کی صورت اختیار کرجائے گی جس کی روک تھام کی ضرورت ہے۔
محکمہ انسداد تجاوزات شہر میں 8 ٹریفک پولیس چوکیاں مسمار کردی گئیں
القمر

