کراچی: صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ نے 1997 تک کی کچی آبادی پالیسی کو ترمیم کرکے 2003 تک بڑھانے کے احکام بھی جاری کردیے۔
صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں مجموعی طور پر 1429 کچی آبادیاں ہیں جن میں سے 962 نوٹیفائیڈ ہیں جبکہ 360 کچی آبادیوں کو مستقل کرنے پر کام جاری ہے یہ بات انھوں نے اپنے دفتر میں سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں سیکریٹری کچی آبادی احمد بخش ناریجو، ڈائریکٹر جنرل کچی آبادی فاروق لغاری سمیت ریجنل ڈائریکٹرز نے شرکت کی ،صوبائی وزیر غلام مرتضیٰ بلوچ نے سیکریٹری اور ڈی جی کچی آبادی کو ملازمین کی ترقیاں شفاف طریقے سے اہلیت کی بنیاد پر کرنے کی ہدایت کی۔
غلام مرتضی بلوچ نے1997 تک کی کچی آبادی پالیسی کو ترمیم کرکے 2003 تک بڑھانے کے احکام بھی جاری کیے انھوں نے مزید کہا کہ لاڑکانہ کی کچی آبادی کو لیز کرنے کے لیے متعلقہ ڈی سی اور ایم سی سے مشاورت کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کچی آبادیوں کے فلاحی پلاٹوں کی لیز کینسل کی جائے اور بلڈرز ایسوسی ایشن (آباد) سے مل کر کچی آبادی ری سیٹلمنٹ پلان ترتیب دیا جائے، حالیہ بارشوں کے باعث کچی آبادیوں کے انفراسٹرکچر کے نقصانات کی نشاندہی کرکے رپورٹ پیش کی جائے، صوبائی وزیر نے کہا کہ 1997 تک کی کچی آبادی پالیسی کو ترمیم کرکے2003 تک کیا جائے۔
