English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیب 10 ،10 سال ضائع کرتا ہے پھر انکوائری بند‘ اب یہ نہیں ہوگا‘سندھ ہائیکورٹ

القمر

پہلے ایک تفتیشی افسر آتا پھر دوسرا الف سے کام شروع کرتا ہے ،اندازہ ہے آپ کو لوگ کس تکلیف سے گزرتے ہیں،چیف جسٹس
ہم نے 50 فیصد انکوائریاں نمٹادیں،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل، نیب کی جانب سے جمع جواب واپس،5 ستمبر کو مکمل تفصیلات طلب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے نیب کی جانب سے زیرالتوا انکوائریوں اور انویسٹی گیشن سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب میں کئی انکوائریاں 10 ، 10 سال سے زیر التوا ہیں اور پھر انہیں بند کردیا جاتا ہے۔ ایک آدمی کے 10 سال تباہ کردیتے ہیں، کون ذمہ دار ہے ؟۔ کون اس کے 10 سال واپس کرے گا؟۔ اندازہ ہے آپ کو لوگ کس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ بس بہت ہوچکا، اب یہ نہیں ہوگا۔ پہلے ایک تفتیشی افسر آتا ہے پھر دوسرا الف سے کام شروع کرتا ہے۔ عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اور ڈی جی آپریشنز کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب واپس کر تے ہوئے 5 ستمبر کو مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ جمعرات کو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو زیر التوا نیب انکوائریز اور انویسٹی گیشن سے متعلق سماعت ہوئی۔ نیب کی جانب سے زیرالتوا، انکوائریز اور انویسٹی گیشن کی مکمل رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں نیب کے پاس سب سے پرانی انکوائری کون سی چل رہی ہے ؟۔ نیب حکام تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے موقف دیا کہ ہم نے 50 فیصد انکوائریاں نمٹادی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ہم نے جو سوال کیا ہے اْس کا جواب دیں۔ انکوائری کا نمبر بتائیں جو سب سے پرانی ہے اور اب بھی جاری ہے ؟۔ اتنے عرصے سے کن وجوہات پر انکوائریاں زیر التوا ہیں؟۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اپنایاکہ انکوائریوں کی فہرست پیش کردی جائے گی۔ عدالت نے نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اور ڈی جی آپریشنز کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب واپس کردیا۔بعد ازاں عدالت نے 5 ستمبر کو مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔قبل ازیں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب سوسائٹی کی تعمیر کے سلسلے میں انکوائری کررہا ہے۔ 4 سال گزر نے کے باوجود انکوائری مکمل نہیں کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے