مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور پابندیوں کو آج 33 روز ہوگئے، نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’کشمیر کو بولنے دو‘ مہم شروع کردی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پابندیوں نے کشمیریوں کی روز مرہ زندگی، جذبات اور ذہنی حالت کو بری طرح متاثر کیا۔ برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قابض بھارتی فوج شہریوں پر دکانیں اور کاروبار کھولنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
تفصیلات کے مطاق جنت نظیر وادی کو جیل میں بدل دیا ہے، خاردار تاروں میں لپٹی مقبوضہ کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوگئی ہے،فاشسٹ بھارت کی بزدل فوج نے کشمیریوں کو 33روز سے گھروں میں بند کررکھا ہے، غذا کی قلت،بھوک سے بلکتے بچوں اور مریضوں کی اُکھڑتی سانسوں سے مجبور ہوکر کشمیری باہر نکلیں تو ان پر چھرے اور ڈنڈے برسائے جارہے ہیں۔
دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہونے کے بعد بھارت تلملا رہا ہے، ظلم ڈھاتی بھارتی افواج سب اچھا دکھانے کی خاطر، کشمیریوں پر کاروبار کھولنے کا دباو ڈال رہی ہیں۔مگر غیور اور بہادر کشمیریوں نے یہ دباؤمسترد کردیاہے۔ ان کا کہنا ہے ہماری شناخت داؤ پر لگی ہے، اسکا بچاؤ ہماری ترجیح ہے۔مقبوضہ وادی میں طالب علموں ،دکانداروں ،سرکاری ملازمین کا بھارتی اقدام پرغیر رسمی بائیکاٹ جاری ہے۔

