English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کشمیر پر کوئی توجہ نہیں ہے عمران خان کراچی اور سندھ کو فتح کرنا چاہتے ہیں، بلاول

القمر

نالائق، نااہل اور ناجائز وزیر اعظم کی غلط پالیسیوں سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے، کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے مریم نواز کو گرفتار کیا گیا، چیئرمین پی پی پی
ہمارے کچھ تحفظات میں وہ دور ہوجائیں تو مولانا فضل الرحمن کے احتجاج میں شامل ہوجائیں گے، خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، پریس کانفرنس سے خطاب
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن کے احتجاج کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ہمارے کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو شاید مولانا کے احتجاج میں شامل بھی ہوجائیں گے۔عمران خان کراچی اور سندھ کو فتح کرنا چاہتے ہیںکشمیر پر کوئی توجہ نہیں ہے۔نالائق، نااہل اور ناجائز وزیراعظم کی غلط پالیسیوں سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا، الیکشن کے لئے تیار ہیں، سندھ سے پنجاب تک احتجاج کریں گے ،رہبر کمیٹی میں جو اعتراض پی پی پی نے اٹھائے وہ ابھی تک ایڈریس نہیں ہوئے قطعی طور پر پی این اے جیسی تحریک کی حمایت نہیں کر سکتا۔ پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد یوسف رضا گیلانی، قائم علی شاہ، فرحت اللہ بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کور کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کے خلاف احتجاج پر مشاورت کی گئی، نیب کا قانون سیاسی انجینئرنگ کے لئے بنایا گیا بدھ کو بھی اسی قانون کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے مریم نواز کو گرفتار کیا گیا ،عید کی رات کو فریال تالپور کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا گیا جب کشمیر پر پارلیمانی کانفرنس ہورہی تھی تو خورشید شاہ کو گرفتار کیا گیا ،عمران خان ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکال رہے ہیں ،خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کر تا ہوں۔انہوں نے کہا ہم نے رہبر کمیٹی میں بھی بات کی اور اب بھی مولانافضل الرحمن کے سامنے رکھیں گے کہ پارلیمانی نظام سلامت رہے ہم ایسا احتساب کا نظام چاہتے ہیں جو یکساں ہو،جو بھی سرکاری تنخواہ لیتا ہے ان سب کا ایک ہی احتساب کا ادارہ ہو،حکومت میں جرات نہیں کہ مشرف کا احتساب کرسکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا بلاول بھٹو کمپرومائز نہیں کرتا، دھرنوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے۔انہوں نے کہا میں دھرنوں کی سیاست کے 10سالوں سے خلاف ہوں آج میں یو ٹرن لیکر کیسے کہہ دوں اب دھرنا درست ہے ، ہماری خواہش ہے پارلیمنٹ مدت پوری کرے مگر عمران خان بوجھ بن چکے ہیں ،سندھ حکومت ہٹانے کی آج نہیں ایک سال سے کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا جے آئی ٹی کی جعلی رپورٹ تیار کی گئی ہمارے لوگوں پر پریشر ڈال کر ان کی وفاداریاں تبدیل کروانے کی کوشش کی جارہی ہے ،ربڑ سٹمپ پارلیمنٹ اور ربڑ سٹمپ اسپیکر ہے کٹھ پتلی حکومت ہمیں منظور نہیں۔ انہوں نے کہ ایک طرفہ احتساب جاری ہے ، نیب چیئرمین جیسے عمران خان کہتا ہے ویسے کرتا ہے ، عمران خان کے جانے میں دیر نہیں مولانا فضل الرحمن کے دھرنے سے جائیں، یا ہماری اسٹریٹجی سے جائیں۔ بلاول بھٹو نے کہا آپ کہتے ہیں کہ ملا بنو میں ملا نہیں بنوں گا میں بی بی کی سیاست کروں گا۔انہوں نے کہا پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کو بچانا اور حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا انتخابی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ گزشتہ الیکشن کی طرح کوئی کسی کو سلیکٹ نہ کرسکے۔ انہوں نے کہا خدشہ ہے کہ اگر دھرنا ہوتاہے تو مارشل لابھی لگ سکتا ہے۔ بلاول نے چارٹر آف ڈیموکریسی نافذ کرنے اور انیسویں ترمیم ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہو ں نے کہا صدر عارف علوی نے الیکشن کمیشن میں نئے ارکان لگانے کیلئے غیر آئینی کام کیا جس پر ان کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا وزیراعظم اپنے ملک میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق پر بات کیسے کریں گے ؟۔ عمران خان مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کیلئے کیسے آواز اٹھائیں گے وہ اپنے ملک میں سیاسی مخالفین کو قید کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے