
یونیورسٹی حکام کے مطابق حلیمہ نامی طالبہ سیلفی لینے کے چکر میں یونیورسٹی کے نو تعمیرشدہ بلاک کی چوتھی منزل سے نیچے گری اور انہیں شدید چوٹیں آئیں ، بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
ذرائع کے مطابق طلباء کو نجی یونیورسٹی کے نو تعمیرشدہ بلاک میں جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود حلیمہ وہاں گئیں جب کہ یونیورسٹی کے دیگر طلبہ نے حلیمہ کی ہلاکت پر یونیورسٹی حکام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد کا شاہین چوک بلاک کردیا۔
Students of Bahria University, Islamabad holding rally demanding Justice for their fellow student Haleema. #JusticeForHaleema pic.twitter.com/bbBj6NMDwO
— Shamim-ur-Rasool (@Lillah25) September 27, 2019
حلیمہ کے ساتھی طلباء کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی حکام حلیمہ کی ہلاکت کے اصل حقائق چھپا ر ہے ہیں، جب کہ چوتھے فلور پر اکاؤنٹنگ اور فنانس کی کلاسز ہوتی تھیں لیکن اس فلور پر لفٹ کی جگہ خالی چھوڑنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے گردش کررہی ہے اور ’جسٹس فار حلیمہ‘ کا ٹرینڈ بھی بن چکا ہے جو اب تک سیکڑوں لوگ فالو کرچکے ہیں۔
