
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بشیرنے کہا کہ عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر بڑی اہمیت کی حامل ہے ، ہمار ی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف اس وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریر ایک لحاظ سے دنیا کو ایک وارننگ تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر پر دنیا نظریں چراتی ہے تواس کے کیانتائج ہوسکتے ہیں ؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جو اسلامو فوبیا پر بات کی ، یہ وہ ایشوز ہیں جن سے پہلے ہم نظریں چراتے رہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ اسلام آباد میں عسکری اور سول قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے سفارتکاری کا آپشن استعمال کرناہے جس کی وجہ ہم سفارتکاری کو بلندیوں پر لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں ، وزیر اعظم کی تقریر کا جو سب سے اہم نقطہ تھا کہ کشمیر سے کرفیو اٹھایا جائے ، ان کا کہناتھا کہ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، اقوام متحدہ کوچاہئے کہ کم از کم ایسا اقدام کیا جائے کہ بھارت کشمیر سے کرفیواٹھا لے ۔
