سری نگر،2اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر): بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام پر پابندیوں سے جہاں عام لوگ مشکلات سے دوچار ہیں وہیں”خبروں کے قحط ”سے صحافیوں کا کام بھی مشکل ہوگیا ہے۔ وادی کشمیر کو خبروں کا مرکز تسلیم کیا جاتا تھا کیونکہ تشدد زدہ خطہ ہونے کے باعث یہاں خبروں کی بہتات ہوتی تھیں لیکن گزشتہ دو ماہ سے ذرائع مواصلات پر پابندیوں اور سیاسی و علیحدگی پسند رہنماؤں کی نظربندی و گرفتاری کی وجہ سے اب صحافیوں کے لئے خبر تلاش کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا ہے۔
ایک مقامی صحافی پرویز بخاری ، جو ایک بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے لئے فری لانسر کے طور پر کام کرتے ہیں، نے ساؤتھ ایشین وائرکے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مواصلاتی نظام پر پابندی یہاں خبر تلاش کرنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔ سرکاری ذرائع جو معاملات پر کھل کر بات کرتے تھے آج کل کوئی بھی تفصیلات فراہم کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ جب بھی ہم دفتر کے لینڈ لائن نمبر یا میڈیا سنٹر کے فون سے کسی سرکاری افسر کو فون کرتے ہیں تو وہ کوئی بھی تفصیلات فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہیں جس سے ہمارا کام مشکل بن جاتا ہے’۔وہ کہتے ہیں کہ مواصلات کی ناکہ بندی میں کام کرنا بلیک ہول کے باہر کام کرنے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
ایک موقر بھارتی اخبار ایکسپریس کے ڈپٹی ایڈیٹر مزمل جلیل کہنا ہے کہ انفارمیشن بلیک ہول سے اطلاعات لینا اوردینا اتنا مشکل ہے کہ انھیں اندازہ نہیں ہوپاتا کہ خبر کی تلاش کے لئے کہاں جائیں۔ہم شہروں اورگاؤں میں مارے مارے پھرتے ہیں اوراگر آپ کے ہاتھ کوئی سٹوری لگ جائے تو یہ خوش قسمتی کی بات ہے۔
ایک اور صحافی جو ایک نیوز ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہیں، نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس قدر مشکلات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جس قدر آج کل کرنا پڑرہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میں گزشتہ دو دہائیوں سے ایک نیوز ایجنسی میں نمائندے کی حیثیت سے کام کررہا ہوں لیکن جس قدر خبریں تلاش کرنے میں آج کل مشکلات کا سامنا ہے پہلے کبھی نہیں تھا، مواصلاتی نظام پر جاری پابندی سے معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں کیا ہورہا ہے اور اس کے علاوہ سیاسی لیڈر بھی نظر بند ہیں جس کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں جو خبروں کی کمی کا ایک اور بڑا سبب ہے’۔
صحافی نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘انتطامیہ کی طرف سے قائم شدہ میڈیا سینٹر میں صحافی دن بھر بیٹھے رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے خبریں معلوم کرنے کے لئے "خبرا ما چھ” یعنی کوئی خبر نہیں ہے ” دوہراتے رہتے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آتا تھا تو مقامی لوگ سٹیزن جرنلسٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے مذکورہ واقعہ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے تھے۔ ہم ان سٹیزن جرنلسٹس سے رابطہ قائم کرکے تفصیلی خبریں کرتے تھے۔ اب چونکہ انٹرنیٹ گزشتہ دو ماہ سے معطل ہے، خبروں کی ترسیل بھی بری طرح سے متاثر ہے’۔ تاہم ساؤتھ ایشین وائر نے بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں موجودہ حالات میں مقامی اخبارات کی سرکولیشن میں روز بروزاضافہ ہو رہا ہے۔ذرائع ابلاغ پر پابندی میں چونکہ اخبار ہی لوگوں کے لئے معتبر خبروں کا وسیلہ ہے لہذا اخباروں کی سرکولیشن میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگ زیادہ تر اردو اخبار پڑھتے ہیں لہذا اردو اخباروں کی سرکولیشن میں زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر حکومت کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی طرف سے سری نگر کے ایک ہوٹل میں ایک میڈیا سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ میڈیا سنٹر وادی میں موجود مقامی و غیر مقامی صحافیوں اور مقامی میڈیا اداروں کے لئے آکسیجن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ میڈیا سنٹر جہاں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے لئے انٹرنیٹ کنکشن سے لیس 9 کمپیوٹرز اور کالنگ کے لئے موبائل فون دستیاب ہیں، میں صبح سے رات دیر گئے تک صحافیوں اور مقامی اخبارات کے ملازمین کو اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
