وکیل بھارتی سپریم کورٹ پرشانت بھوشن نے مودی کا اصل گھنائونا چہرہ بے نقاب کر دیا
مودی کو ڈگری دیدی جاتی تو ہمارے ضمیر زندگی بھرہمیں ملامت کرتے رہتے‘ طلبا حیران
ایسے شخص کو کسی پرائمری اسکول کی سند بھی نہیں دی جا سکتی ‘لندن میںتقریب سے خطاب
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)نئی دہلی میںمودی سرکار پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔وکیل بھارتی سپریم کورٹ پرشانت بھوشن نے مودی کا اصل گھنائونا چہرہ بے نقاب کر دیا ۔ آکسفورڈ یونین سوسائٹی میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے تقریرکے دوران ہندوستان کے وزیر اعظم مودی کے بارے میں وضاحت کی۔ لندن اسکول آف اکنامکس مودی آنرری ڈگری کو مدعو کرنے اور پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا لیکن اس تقریر کے بعد انہوں نے فوری طور پر یہ دعوت نامہ منسوخ کردیا۔ ہندوستانی پرنٹ اورالیکٹرنک میڈیا نے اس تقریر کو مکمل طور پر بلیک آئوٹ کردیا ہے۔ سچ دیکھیں اور پھیلائیں ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے ایک مشہور و معروف قانون دان اور انسانی حقوق سمیت شہری آزادیوں کیلئے اٹھنے والی ایک بے باک آواز پرشانت بھوشن ‘ایڈووکیٹ کی زبان سے سامنا آیا ہے اور اس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے جنونی اور خونی انتہا پسند ہندو کا چہرہ سب کے سامنے اصل شکل میں پیش کر دیا۔ جیسے ہی لندن اسکول آف اکنامکس کے طالبعلموں اور پروفیسروں کی آنکھوں کے سامنے پرشانت بھوشن نے نریندر مودی کا اصل گھنائونا اور بھیانک اقلیت دشمن چہرہ دکھایا تو تمام طلبا ایک آواز ہو کر اسکول انتظامیہ کے پاس پہنچے اور نریندرمودی کو لندن اسکول آف اکنامکس کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کی پیشکش واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔اسکول کے طلبا کا کہنا ہے کہ اگر نریندر مودی کو یہ ڈگری دے دی جاتی تو ہمارے ضمیر زندگی بھرہمیں ملامت کرتے رہتے۔اقلیتوں سے ناروا سلوک اورمقبوضہ کشمیر کے مرد و خواتین اور بچوں پر سفاکانہ ظلم کے علا وہ پرشانت بھوشن نے نریندرمودی کی بے رحمانہ معاشی پالیسوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے کئی راز بھی افشا کیے اور یہ ثابت کیا کہ نریندر مودی نے بھارتی میڈیا کو کس طرح کرپٹ کیاہوا ہے اور بھارتی میڈیا کو انتخابات کے دوران کس طرح اور کتنے میں خریدا گیااور انہیں کتنی رشوت دی گئی کہ وہ اپنی زبانیں بند رکھیں۔ انہوں نے اپنی دستاویز میں نریندر مودی اور بھارتی جنتا پارٹی کا وہ خوف ناک کردار بھی پیش کیا‘ جس میں میڈیا کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں مسلمانوں سمیت بھارت میں بسنے والی دوسری اقلیتوں کے خلاف من گھڑت قصے کہانیاں اور ہندو دھرم کے خلاف ان کے زیر زمین منصوبوں کی کہانیاں پھیلانے پر آمادہ کیا گیا۔پرشانت بھوشن نے لندن اسکول آف اکنامکس کے طلبا اور انتظامیہ کے علا وہ میڈیا کے سامنے یہ کہا کہ بھارت اور اس کی جمہوریت کیلئے وہ تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا‘ ایسے شخص کو لندن اسکول آف اکنامکس تو بہت دور کی بات ہے‘ کسی پرائمری اسکول کی سند بھی نہیں دی جا سکتی ‘ کیونکہ یہ اس پرائمری اسکول اور اس کی سند کی توہین ہو گی۔پرشانت بھوشن نے مزید کہا کہ لندن اسکول آف اکنامکس‘ کسی ایسے شخص کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینا پسند کرے گا؟ جس پر رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن کا الزام ہو۔انہوںنے اپنی تقریر میں کہا کہ لمحہ بھر کیلئے فرض کرلیتے ہیں کہ رافیل طیاروں کی خریداری میں نریندرمودی کی کرپشن صرف الزام ہے تو اس سوال کا جواب کون دے گا ‘ جو بھارت اور فرانس کی اپوزیشن جماعتیں بھی پوچھ رہی ہیں کہ سی بی آئی کا ڈائریکٹر جو رافیل طیاروں کے سکینڈل کی تحقیقات کر رہا تھا‘ اسے راتوں رات کیوں تبدیل کیا گیا اگر مودی جی کے ہاتھ صاف ہیں؛ اگر اس نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی ‘تو پھر اس کی تحقیقات کرنے والے ڈائریکٹر سی بی آئی کوکیوں تبدیل کیا گیا؟

