جن 23 اکاؤنٹس کا ذکرکیا گیا، کیا یہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس ہیں؟ چیف الیکشن کمشنر کا وکیل سے استفسار
اسٹیٹ بینک نے آڈٹ کمیٹی کو پی ٹی آئی کے23 اکاؤنٹس کا بتایا ہے‘ درخواست گذار کے وکیل احمد حسن کا جواب
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے23 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا، چیف الیکشن کمشنر نے غیر ملکی فنڈنگ کیس میں استفسار کیا کہ جن 23 اکاؤنٹس کا ذکر کیا جا رہا ہے کیا یہ اسٹیٹ بینک نے لکھا ہے ان کے اکاؤنٹس ہیں؟ وکیل احمد حسن نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے آڈٹ کمیٹی کو پی ٹی آئی کے 23 اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو 10 اکتوبر کو فیصلہ سنائے گا، الیکشن کمیشن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ سنائے گا، جبکہ چیف الیکشن کمشنر سر دار محمد نے کہا ہے کہ ٹی وی اگر کچھ آتا ہے تو آپ نظر انداز کریں، ٹی وی پر کوئی خبر چلتی ہے تو اس پر کمیٹی کیسے ذمہ دار ہوگی۔پی ٹی آئی وکیل نے اکبر ایس بابر کا نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کا ٹرانسپکرپٹ الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کردیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ جن 23 اکاؤنٹس کا ذکر کیا جا رہا ہے کیا یہ اسٹیٹ بینک نے لکھا ہے ان کے اکاؤنٹس ہیں۔ وکیل احمد حسن نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو تحریک انصاف کے 23 اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا ہے۔ تحریک انصاف جن ٹی وی رپورٹس کا ذکر کر رہی ہے اس میں ان کے اپنے لوگوں نے انفارمیشن لیک کی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف انفارمشن لیکج کا بہانہ بنا کر بھاگ رہی ہے۔ وکیل احمد حسن نے کہا کہ کمیٹی کی ہر میٹنگ میں تحریک انصاف کی نمائندگی موجود تھی۔ تحریک انصاف کے نمائندہ کی عدم حاضری کے باعث کمیٹی میٹنگ بھی نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر موجودگی میں کمیٹی کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کی تشکیل کے بعد دوسری بار کمیشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی چار درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ الیکشن کمیشن 10 اکتوبر کو تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سنائے گا۔ الیکشن کمیشن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ سنائے گا۔

