English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فپواسا کی اپیل پر جامعہ کراچی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ ٗ مطالبات کی عدم منظوری پر یکم اکتوبر سے بھوک ہڑتال کا اعلان

17ٗ 25اور 26ستمبر کو تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ٗ اب تک حکومتی ارکان نے ہم سے رابطہ نہیں کیا ٗ ڈاکٹر نیک محمد شیخ
اعلیٰ تعلیم کیلئے صوبائی حکومت کے پاس کوئی ٹاسک فورس نہیں ٗ ایک منصوبہ بندی کے تحت سرکاری جامعات کو تباہ کیا جارہا ہے ٗ فپواسا عہدیداران کی پریس کانفرنس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) فپواسا کی اپیل پر جمعرات کو دوسرے دن بھی جامعہ کراچی میں تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ فپواسا نے مطالبات کی عدم منظوری پر یکم اکتوبر سے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا۔ فپواسا (فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن) سندھ کے صدر ڈاکٹر نیک محمد شیخ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فپواسا سندھ چیپٹر نے 12 ستمبر کو جامعہ کراچی میں اجلاس کی قرارداد کے مطابق 17، 25 اور 26 ستمبر کو تدریسی عمل کا بائیکاٹ کیا، لیکن اس کے باوجود حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اب تک کسی حکومتی ارکان نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔ فپواسا کے عہدیداران کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ میں 7.5 فیصد اضافے کے بجائے 10 فیصد کٹوتی کی گئی، بجٹ کٹوتی کے باعث تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔ اس مالی بحران سے طالب علم سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ جامعات کو بحران سے نکلنے کے لیے فیسوں مں اضافہ کرنا پڑے گا۔ طالب علموں پر فیسوں کا بوجھ پڑے یہ اساتذہ نہیں چاہتے جبکہ ٹیکس کی مد میں اساتذہ پر 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، سندھ کی جامعات کے لیے اسپیشل گرانٹ جاری کی جائے۔ فپواسا نے مطالبہ کیا کہ وفاقی ایچ ای سی چیئرمین کو ہٹایا جائے۔ وفاقی اور سندھ حکومت کو متنبہ کر دیا کہ اگر مطالبات نہیں مانے گئے تو یکم اکتوبر سے بھوک ہڑتال ہوگی۔ پریس کانفرنس کے دوران پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے صوبائی حکومت کے پاس کوئی ٹاسک فورس نہیں، ایک منصوبہ بندی کے تحت سرکاری جامعات کو تباہ کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے