English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈھائی کروڑ کی فلم ’’ دال چاول‘‘ میں تخلیقی محنت کا بجٹ صفر

فلم کے حقیقی قلمکار‘ گیت نگار‘ ذوالفقار عادل نکلے‘ پروڈیوسر نے تمام کریڈٹ اپنے نام کرلیا
کراچی (کلچرل ڈیسک) 14 اکتوبر 2019ء کو ریلیز ہونے والی فلم ’’دال چاول‘‘ فلم کے حقیقی قلمکار، کہانی، ڈائیلاگ اور اسکرین پلے ملک کے نامور شاعر اور کہانی نویس ’’ذوالفقار عادل‘‘ کے تحریر کردہ نکلے۔ مزید تفصیلات کے مطابق 2015ء میں چھپنے والی کتاب ’’شرق مرے شمال میں‘‘ میں ’’روپ بدل کر جانے کس پَل‘‘ گانا شعری مجموعے میں شامل ہے جوکہ فلم میں بِناء اجازت شامل کیا گیا ہے جبکہ راحت فتح کا گایا ہوا مقبول گیت ’’ہم زندہ تھے، ہم زندہ ہیں آنکھوں سے کہو نمناک نہ ہوں‘‘ بھی ذوالفقار عادل کا لکھا ہوا ہے، فلم کے پروڈیوسر جوکہ ایک اہم ادارے کے سربراہ بھی ہیں نے فلم کے اسکرپٹ اور شاعری سے حقیقی قلم کار کو محروم کر کے دونوں کا کریڈٹ اپنے نام کرلیا، نیز ’’دال چاول‘‘ میں شہیدوں کے نام سے منسوب فلم میں جس طرح سے تحریر کی ڈکیتی کی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ یاد رہے چند روز قبل سے ہی فلم دال چاول پہلے ہی سرکاری املاک کے بے دریغ استعمال اور قومی پرچم کی غلط عکاسی کی وجہ سے متنازع بن چکی ہے جس کی ذمہ دار دال چاول کی پوری ٹیم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے