English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما قتل

القمر

 کراچی: عزیز آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے تحریک انصاف کے علاقائی رہنما آصف ہارون کو قتل کردیا۔

ہفتے کی شام عزیز آباد کے علاقے میں مدنی مسجد کے گیٹ پر موٹر سائیکل سوار دو ملزمان نے فائرنگ کی جس کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کا سابق صدر 42 سالہ آصف عرف چکلی ولد ہارون جاں بحق ہوگیا، مقتول عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلا ہی تھا کہ گھات لگائے ملزمان نے فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔

اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو عباسی اسپتال منتقل کیا، پولیس نے جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول قبضے میں کرلیے۔

ایس ایس پی سینٹرل عارف راؤ نے جائے وقوع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آصف حسین آباد کے رہائشی ہیں اور ان کا اپنا کاروبار تھا ، وقوعہ کے وقت وہ نماز پڑھ کر باہر نکلے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں ںے کہا کہ سیاسی چپقلش اور ذاتی عناد سمیت ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی اور جلد ہی اہم پیش رفت ہوگی۔

عارف راؤ نے بتایا کہ مقتول پہلے کھارادر میں رہائش پذیر تھا اور اب اس نے حسین آباد میں رہائش اختیار کی ہوئی تھی، آصف کے ماضی کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی، گولیوں کے خول فارنسک تجزیے کے لیے لیبارٹری روانہ کردیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کارکنوں کا شارع پاکستان پر دھرنا، ٹریفک جام

دریں اثنا واقعے کے بعد شام کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد شارع پاکستان کریم آباد پہنچ گئی اور دھرنا دے دیا، مظاہرے کے بعد کریم آباد سے سہراب گوٹھ کی جانب جانے والا ٹریک عام ٹریفک کے لیے بند ہوگیا اور شام کا وقت ہونے کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

دھرنے میں وقتاً فوقتاً پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اسلم خان، عمران شاہ، ارسلان تاج، راجہ اظہر، خرم شیر زمان اور دیگر بھی پہنچتے رہے، کچھ دیر احتجاج کے بعد خرم شیر زمان نے دھرنا ختم کرنے کا کہا تو کارکن بپھر گئے اور انھوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس دوران تلخ کلامی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے بعدازاں اعلیٰ پولیس حکام سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے